کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 63
الصَّلَاۃِ۔‘‘ [1] [’’اے میرے چھوٹے سے بیٹے! اُنہیں چمٹ جاؤ،[2]کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اُن کے ساتھ دُعا کیا کرتے تھے۔‘‘] اپنے ساتھ کسی اور شخص یا اشخاص کو شامل کرنے کی صورت میں دعا کے الفاظ حسبِ ذیل ہوں گے: ( [’’ اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکُفْرِ، وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔‘‘] [’’اے اللہ! یقینا ہم کفر، فقر اور قبر کے عذاب سے آپ کے ساتھ پناہ طلب کرتے ہیں‘‘]۔ ۱۵-۹: امام ابو داؤد اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا (یعنی دعا کیا) کرتے تھے: ’’اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَ الْقِلَّۃِ وَ الذِّلَّۃِ، وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ۔‘‘[3] [’’اے اللہ! یقینا میں فقر، تنگ دستی اور ذلت سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں اور میں ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے آپ سے پناہ کا سوال کرتا ہوں‘‘]۔ اپنے ساتھ کسی دوسرے شخص یا اشخاص کو شامل کرنے کی صورت میں دعا کے الفاظ حسبِ ذیل ہوں گے: ( [اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَ الْقِلَّۃِ وَ الذِّلَّۃِ، [1] سنن النسائي ، کتاب الاستعاذۃ ، الاستعاذۃ من الفقر، ۸؍۲۶۲۔ شیخ البانی نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۳؍ ۱۱۱۱)۔ [2] (چمٹ جاؤ): یعنی اس دعا کو ضرور مانگا کرو۔ [3] سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب في الاستعاذۃ، رقم الحدیث ۱۵۴۱، ۴/۲۸۲؛ و سنن النسائي، کتاب الاستعاذۃ، الاستعاذۃ من الذلّۃ، ۸/۲۶۱۔ الفاظِ حدیث سنن أبي داود کے ہیں۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱/۲۸۷؛ و صحیح سنن النسائي ۳/۱۱۱۱)۔