کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 57
اس بنا پر اس دُعا کے آغاز میں: [رَبَّنَا] یا [اَللّٰہُمَّ] جو بھی کہا جائے گا، درست اور صحیح ہو گا۔ ii: [دُنیا میں حَسَنَۃً] میں …بقول حافظ ابن کثیر…[1] عافیت، کشادہ گھر، اچھی بیوی،[2] فراخ رزق، علمِ نافع، عملِ صالح، آرام دہ سواری، عمدہ تعریف وغیرہ دنیا کی تمام (شرعی) مرغوب چیزیں داخل ہیں۔ [آخرت میں حَسَنَۃً] میں بلند ترین چیز جنت میں داخلہ اور ضمنی طور پر بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رہنا، حساب میں آسانی اور آخرت کے دیگر اچھے معاملات شامل ہیں۔ [دوزخ کی آگ سے نجات] میں حرام کردہ چیزوں اور گناہوں سے بچاؤ کے اسباب کا میسر آنا اور شبہات اور ناجائز باتوں اور کاموں کا ترک کرنا بھی شامل ہے۔ [3] اس دعا نے …جیسے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر علماء نے بیان کیا ہے…[4] اپنے اندر دنیا کی ہر خیر کو سمو دیا اور ہر شر کو پھیر دیا۔ ۸-۲: امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا (یعنی دعا کیا) کرتے تھے: ’’ اَللّٰہُمَّ أَصْلِحْ لِيْ دِیْنِيْ الَّذِيْ ھُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِيْ، وَأَصْلِحْٖ لِيْ دُنْیَايَ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَاشِيْ، وَأَصْلِحْ لِيْ آخِرَتِيْ الَّتِيْ فِیْھَا مَعَادِيْ، [1] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱؍ ۲۶۱۔ [2] خاتون کی دعا کی صورت میں [اچھا خاوند] مراد ہو گا۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱؍ ۱۹۲۔ [3] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱؍ ۲۶۱؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۱۱/۱۹۲۔ [4] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۱/۲۶۱-۲۶۲؛ و فتح الباري ۱۱/۱۹۱-۱۹۲۔