کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 53
تنبیہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے پہلے جملے میں اپنی التجا کا آغاز [رَبَّنَا] سے کیا۔ اب صرف اسی جملے کے ساتھ اولاد کے لیے دعا کرنے والا آغاز میں [رَبَّنَا] کا اضافہ کرے اور سابقہ جملے سے رابطہ ختم کرنے کی خاطر [فَا] کے بغیر یوں دعا کرے: [رَبَّنَا {اجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ إِلَیْہِمْ وَ ارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ}] ۲-۲: امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک طویل روایت میں نقل کیا ہے، کہ جب خلیل الرحمن (یعنی ابراہیم) اپنے صاحب زادے اسماعیل علیہ السلام کے گھر مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو انہوں نے اُن کے اور اُن کے اہلِ خانہ کے لیے درجِ ذیل الفاظ میں دعا کی: ’’ اَللّٰہُمَّ ! بَارِکْ لَہُمْ فِيْ اللَّحْمِ وَالْمَآئِ۔‘‘[1] [’’اے اللہ! اُن کے لیے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرمایئے‘‘]۔ ۳-۳: ایک دوسری روایت میں ہے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے کہا: ’’ اَللّٰہُمَّ! بَارِکْ لَہُمْ فِيْ طَعَامِہِمْ وَشَرَابِہِمْ۔‘‘[2] [’’اے اللہ! اُن کے لیے اُن کے کھانے اور پینے میں برکت عطا فرمایئے‘‘]۔ دو تنبیہات: i: [اَلْبَرَکَۃ] سے مراد … جیسا کہ علامہ مبارک پوری نے لکھا ہے… [خیر کا [1] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الأنبیآء، باب یزفُّون: النَّسَلان في المشي ، جزء من رقم الروایۃ ۳۳۶۴، ۶؍۳۹۷۔ [2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ، جزء من رقم الروایۃ ۳۳۶۵، ۶؍۳۹۹۔