کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 50
[’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا دایاں (ہاتھ) بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن کے بہت زیادہ (مسلسل) خرچ کرنے سے اس میں کمی نہیں آتی۔ کیا تم نے دیکھا نہیں، جو انہوں نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے (کے وقت) سے خرچ کیا ہے۔ پس بلاشبہ اُس (خرچ کرنے) نے اُن کے دائیں (ہاتھ) میں کوئی کمی نہیں کی؟]۔‘‘ سو حدیثِ شریف سے مراد یہ نہیں، کہ اُن کے خزانوں میں معمولی سی بھی کمی آتی ہے، کیونکہ کمی تو محدود اور فانی میں واقع ہوتی ہے اور اُن کے خزانے لا محدود، غیر متناہی اور ابدی و سرمدی ہیں۔[1] iii: ربِّ کریم نے اپنے بندوں کو اپنے سے کھانے اور لباس طلب کرنے کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ اُن کے طلب کرنے پر کھِلانے اور پہنانے کا وعدہ بھی فرمایا، تو کیا وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں فرمائیں گے؟ یقینا وہ اپنا وعدہ پورا فرمائیں گے، کیونکہ وہ بات میں سب سے سچے ہیں: {وَ مَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا}[2] اُن کا فرمان سب سے زیادہ برحق ہے: {وَ مَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا}[3] اُن سے بڑھ کر تو کائنات میں کوئی وعدے کا ایفا کرنے والا نہیں: {وَ مَنْ أَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ}[4] اپنے وعدے کی خلاف ورزی، تو اُن کے شایانِ شان نہیں: [1] ملاحظہ ہو: المفہم ۶/۵۵۵؛ و شرح النووي ۱۶/۱۳۳۔ [2] سورۃ النسآء/ جزء من الآیۃ ۱۲۲۔ [ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ گفتار میں کون سچا ہے؟] [3] سورۃ النسآء/ جزء من الآیۃ ۸۷۔ [ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے؟] [4] سورۃ التوبۃ/ جزء من الآیۃ ۱۱۱۔ [ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟]