کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 49
ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِيْٓ إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَآ أُدْخِلَ الْبَحْرَ۔‘‘[1] [’’اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، اور تمہارے انس اور تمہارے جن ایک چٹیل میدان میں کھڑے (یعنی جمع) ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کو اُس کی طلب کردہ چیز عطا کر دوں، تو جو کچھ میرے پاس ہے، اُس میں اتنی ہی کمی آئے گی، جتنی کہ سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے اُس (کے پانی) میں کمی آتی ہے۔‘‘] حدیث شریف کے حوالے سے تین باتیں: i: اللہ تعالی کے کھلانے اور پہنانے سے مراد …و اللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ کھانے اور لباس میں فراخی، وسعت اور تنگ دستی اور بدحالی صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے۔[2] ii: [مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِيْٓ إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَآ أُدْخِلَ الْبَحْرَ]: یہ سمجھانے کی غرض سے ایک مثال ہے۔ اس سے مراد یہ ہے، کہ ساری مخلوق کی فرمائشوں کو پورا کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، جیسے کہ ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’إِنَّ یَمِیْنَ اللّٰہِ مَلْأی، لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ۔ سَحَّآئُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ۔ أَرَاَیْتُمْ مَّا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضَ، فَإِنَّہٗ لَمْ یَنْقُصْ مَا فِيْ یَمِیْنِہٖ؟‘‘[3] [1] صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم، جزء من رقم الحدیث ۵۵۔ (۲۵۷۷)، ۴/۱۹۹۴-۱۹۹۵۔ [2] ملاحظہ ہو: شرح الطیبی ۶/۱۸۳۸؛ و مرقاۃ المفاتیح ۵/۱۵۶۔ [3] متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب التوحید، باب (و کان عرشہ علی المآء …)، جزء من رقم الحدیث ۷۴۱۹، عن أبي ہریرۃ رضی اللّٰه عنہ ، ۱۳/۴۰۳؛ و صحیح مسسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ…، جزء من رقم الحدیث ۳۷- (۹۹۳)، ۲/۶۹۱۔ الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔