کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 48
[اَلرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ] ہیں۔[1] iv: اللہ تعالیٰ ہی سے ہر قسم کا رزق طلب کرنے کا حکم دینے کے بعد حسبِ ذیل دو اور باتوں کا حکم دیا: -(وَ اعْبُدُوْہُ) [اُن کی عبادت کرو]، کہ طلبِ رزق کی فرمائش پورا کروانے میں ربِّ ذوالجلال کی مخلصانہ عبادت ایک موثر ہتھیار ہے۔ -(وَ اشْکُرُوْا لَہٗ) [اُن کا شکر کرو]، کہ اُن کے شکر کرنے سے حاصل شدہ رزق کی نعمت زوال سے محفوظ ہو جاتی ہے اور آئندہ اُس نعمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔[2] ۲: امام مسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کردہ احادیث میں سے، یہ حدیث بیان کی ہے، کہ انہوں (یعنی اللہ تعالیٰ) نے فرمایا: ’’یَا عِبَادِيْ! کُلُّکُمْ جَآئِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُہٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْٓ أُطْعِمْکُمْ۔ یَا عِبَادِيْ! کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ فَاسْتَکْسُوْنِيْٓ أَکْسُکُمْ۔‘‘ [’’اے میرے بندو! تم تمام بھوکے ہو، مگر جِسے میں کھلاؤں، سو تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب برہنہ ہو، مگر جسے میں (لباس) پہناؤں، سو تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں (لباس) پہناؤں گا۔‘‘] پھر اسی حدیث شریف میں فرمایا: ’’ یَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ قَامُوْا فِيْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ، فَسَأَلُوْنِيْ، فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہٗ، مَا نَقَصَ [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۰۱؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۳۴؛ و تفسیر التحریر و التنویر ۲۰/۲۲۶۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر أبی السعود ۷/۳۴؛ و فتح القدیر ۴/۲۸۰۔