کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 46
-ہ- اکیلے رب ذوالجلال سے رزق طلب کرنا آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے صرف اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ اُن کی چابیاں اُنہی کے پاس ہیں۔ رزق دینے کی صلاحیت اُن ہی کے ہاتھ میں ہے۔ رزق میں کشادگی اور تنگی اُنہی کی مشیئت سے وابستہ ہے۔ اس سب کچھ کے بعد، اُن کے سوا کسی اور سے رزق کیونکر طلب کیا جائے؟ اُن سے رزق کے لیے فریاد کرنے میں سُستی، کوتاہی، غفلت اور بے توجہی کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ خصوصًا جبکہ معاشی حالات ناگفتہ بھی ہوں۔ قرآن و سنت میں اس بارے میں واضح اور دو ٹوک راہ نمائی موجود ہے۔ اس بارے میں ذیل میں توفیق الٰہی سے دو دلائل کے متعلق گفتگو کی جا رہی ہے۔ دو دلائل: ۱: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے قوم کو، اس بارے میں دی گئی دعوت کو، ربِّ کریم نے ان الفاظ میں نقل فرمایا: {إِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْہُ وَ اشْکُرُوْا لَہٗ ط إِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ}[1] [بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سوا، جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں ہیں، سو تم اللہ تعالیٰ کے ہاں ہی (ہر قسم کا) رزق تلاش کرو اور اُن کی عبادت کرو اور اُن کا شکر کرو۔ اُنہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے]۔ [1] سورۃ العنکبوت / جزء من الآیۃ ۱۷۔