کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 40
ایمان والے لوگوں کے لیے یقینا (بہت سی) نشانیاں ہیں]۔ ۷: ارشادِ باری تعالیٰ: {لَہٗ مَقَالِیدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ إِِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ}[1] [اُنہی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ جس کے لیے چاہتے ہیں، رزق فراخ کر دیتے ہیں اور (جس کے لیے چاہتے ہیں،) تنگ کر دیتے ہیں، بلاشبہ وہ ہی ہر چیز کو خوب جاننے والے ہیں]۔ ان آیاتِ شریفہ کے حوالے سے سات باتیں: i: ربِّ کریم کائنات میں سب سے سچے اور راست گو ہیں۔ اُن کی صرف ایک دفعہ فرمائی ہوئی بات میں بھی شک و شبہ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مذکورہ بالا آیاتِ کریمہ میں ہم دیکھتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے [جس کو چاہیں بغیر حساب کے رزق دیتے ہیں] کو چار مرتبہ اور [وہ جس کے لیے چاہیں، رزق میں فراخی کرتے ہیں اور جس کے لیے چاہیں، تنگی کرتے ہیں] کو تین دفعہ فرمایا ہے۔ اتنی مرتبہ فرمائی ہوئی یہ حقیقت کس قدر اٹل، قطعی، حتمی اور یقینی ہو گی! ii: اللہ تعالیٰ نے تیسری، چوتھی اور چھٹی آیات میں سے ہر ایک میں اس حقیقت کا آغاز [إِنَّ] یا [أَنَّ] سے فرمایا، جن کے معانی [بے شک]، [بلاشبہ] اور [یقینا] کے ہیں۔ ربِّ کریم کی تاکید کے بغیر فرمائی ہوئی بات بھی قطعی طور پر شک و شبہ سے خالی ہوتی ہے، تو پھر جب وہ اُسے تاکید کے لفظ کے ساتھ بیان فرمائیں، تو اس کی صداقت [1] سورۃ الشورٰی/ الآیۃ ۱۲۔