کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 38
-د- رزق میں وسعت اور تنگی کا فقط مشیئتِ الٰہی سے ہونا مخلوق کے رزق میں فراخی، وسعت، کشادگی، تنگ دستی، خوش حالی، بدحالی اور کمی بیشی کے جملہ اختیارات صرف وحدہٗ لا شریک ربِّ ذوالجلال کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جِسے، جب، جس قدر اور جیسے چاہیں رزق دیتے ہیں۔ جِسے چاہیں، ظاہری اسباب کے نہ ہونے کے باوجود بلاحساب روزی دیتے ہیں اور جِسے چاہیں، بظاہر رزق کے اسباب ہونے کے باوجود، تنگ دست رکھتے ہیں۔ جب چاہیں، صاحبِ ثروت لوگوں کو فاقہ کشی پر لے آتے ہیں اور جب چاہیں، بوریا نشینوں کو محلات کا مالک بنا دیتے ہیں۔ سات دلائل: قرآن کریم میں اس حقیقت کو متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ انہی میں سے سات کے حوالے سے توفیقِ الٰہی سے گفتگو کی جا رہی ہے: ۱: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ اللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ}[1] [اور اللہ تعالیٰ، جِسے چاہتے ہیں، بے حساب رزق دیتے ہیں]۔ ۲: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ}[2] [اور آپ جِسے چاہتے ہیں، بغیر کسی حساب کے رزق دیتے ہیں]۔ [1] سورۃ البقرۃ/جزء من الآیۃ ۲۱۲۔ [2] سورۃ آل عمران/جزء من الآیۃ ۲۷۔