کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 36
دوسرا معنیٰ: وہ اپنے ضعف اور کمزوری کی بنا پر رزق حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ تیسرا معنیٰ: وہ حاصل شدہ رزق کو محفوظ نہیں کرتے، بلکہ ساتھ ساتھ استعمال کرتے جاتے ہیں، وہ مکمل طور پر خالی از رزق نکلتے ہیں، لیکن رب رزّاق انہیں رزق عطا فرما کر لوٹاتے ہیں۔[1] iv: (اَللّٰہُ یَرْزُقُہَا وَ إِیَّاکُمْ) [اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی] مقصود …و اللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ جس طرح کمزور ترین مخلوق، رزق کے حاصل کرنے میں ربِّ رزّاق کی محتاج ہے، اس طرح تم رزق کے وسائل ہونے اور طاقت ور ہونے، کے باوجود رزق کے پانے میں اُنہی کے دستِ نگر ہو۔ زمین پر چلنے والی جان دار مخلوق کی کمزوری رزق کے حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں، کہ اُن کے رزّاق [ذو القوۃ المتین] ہیں اور تمہاری قوت و طاقت تمہیں رزق فراہم نہیں کر سکتی، کہ آسمانوں اور زمین کے خزانے، اُن کی چابیاں اور رزق عطا کرنے کا اختیار، صرف وحدہٗ لا شریک ربّ العالمین کے پاس ہے۔[2] v: (وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ) [اور وہ ہی خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں]۔ رزق سے کوئی اس لیے محروم نہیں رہے گا، کہ تنگ دستی، مفلسی، عسرت اور فاقہ کشی کے وقت اُس کی فریاد سُنی ہی نہ جائے یا اُس کی کیفیت سے آگاہی نہ ہو۔ رب رزّاق وہ ہیں، کہ تنگ دستوں، مفلسوں، عسرت اور فاقہ کشی میں مبتلا لوگوں کی فریادوں کو خوب سننے والے ہیں اور یہی نہیں، بلکہ اپنی زبان سے اُن کے صورتِ [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۱۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۱۳؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۴۶۔ [2] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۱۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۳؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۴۶؛ و تفسیر السعدي ص ۶۳۵۔