کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 35
[اور کتنے ہی چلنے والے (جان دار) ہیں، (جو) اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی اور وہ ہی سب کچھ سننے والے اور سب کچھ جاننے والے ہیں]۔ آیتِ شریفہ کے حوالے سے چھ باتیں: i: بعض مفسرین نے بیان کیا ہے، کہ کچھ مسلمان مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کرتے ہوئے ڈرتے تھے، کہ ایسی جگہ کیسے جائیں، جہاں ہماری معیشت کا سرے سے کوئی بندوبست نہیں۔ اُن کے اس خدشے کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ربِّ کریم نے اس آیتِ کریمہ کو نازل فرمایا۔[1] ii: اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ شریفہ کے ذریعہ اس حقیقت کو اجاگر فرمایا، کہ رزق کا میسر آنا، کسی خاص جگہ کے ساتھ بندھا ہوا نہیں۔ بندہ جہاں بھی ہو، ربِّ رزّاق اُسے وہیں رزق دے سکتے ہیں، بلکہ دیتے ہیں۔ جب مکی حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی معیشت کے سارے اسباب کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ آئے، تو تھوڑے ہی عرصے میں ربِّ قادر نے مال و دولت اور عزت و اقتدار کے خزانوں سے انہیں مالا مال فرما دیا۔[2] iii: (فَکَأَیِّنْ مِّنْ دَآبَّۃٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَہَا) [اور کتنے ہی چلنے والے (جان دار) ہیں، (جو) اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے] یعنی زمین پر رینگنے والی کتنی ہی کمزور اور کم عقل مخلوق، جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتی۔ (لَا تَحْمِلُ رِزْقَہَا) کے مفسرین کے بیان کردہ معانی میں سے تین حسبِ ذیل ہیں: پہلا معنیٰ: وہ اس قدر لاغر، ناتواں اور کمزور ہیں، کہ اپنا رزق اٹھانے کی بھی اُن میں استعداد نہیں۔ [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۱۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۱۳؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۴۶۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر ۳/۴۶۲۔