کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 32
ii: اللہ تعالیٰ کا ہر رینگنے والی چیز کا رازق ہونا: مزید برآں ربِّ کریم صرف انسانوں ہی کے رازق نہیں، بلکہ کائنات کی ہر چیز کے رازق بھی وہ ہی ہیں۔ اس حوالے سے ذیل میں دو دلائل ملاحظہ فرمائیے: دو دلائل: ۱: ارشادِ باری تعالیٰ: {وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ إِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَا طکُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ}[1] [اور زمین میں چلنے والا کوئی جان دار نہیں، مگر اُس کا رزق اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے۔ اور اُس کے ٹھہرنے کی جگہ اور وہ اُس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتے ہیں۔ سب کچھ ایک واضح کتاب میں (درج) ہے]۔ آیتِ شریفہ کے حوالے سے پانچ باتیں: i: ربِّ کریم نے [دَآبَّۃٍ] اسم نکرہ اور اس پہلے حرف جار [مِنْ] اور ان دونوں [مِنْ دَآبَّۃٍ] سے پہلے [مَا] النافیہ استعمال فرمایا۔ [دَآبَّۃٍ] سے مراد زمین میں موجود ہر جان دار چیز، انسان ہو یا حیوان، برّی ہو یا بحری ہے۔ جملے کا مقصود …و اللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ زمین میں موجود کوئی جان دار چھوٹی، بڑی، طاقت ور، کمزور، بری اور بحری ایسی چیز نہیں، کہ جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے نہ ہو۔[2] ii: ربِّ کریم نے ہر جان دار چیز کے رزق کے متعلق فرمایا: [إِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا] [مگر اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے اس کا رزق ہے]۔ اللہ تعالیٰ کے رزق کو اپنے ذمے واجب قرار دینے کے اسباب میں سے …جیسا [1] سورۃ ہود- علیہ السلام -/ الآیۃ ۶۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر البحر المحیط ۵/۲۰۵؛ و تفسیر ابن کثیر ۲/۴۷۸؛ و تفسیر السعدي ص ۳۷۷۔