کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 28
ہونے کا معنیٰ ہوتا ہے۔ مفسرین نے [اَلْمَتِیْنُ] کا معنیٰ [اَلشَّدِیْدُ الْقُوَّۃِ] [1] [بہت زبردست قوت] والے بیان کیا ہے۔ [اَلرَّزَّاقُ] کے ساتھ [ذُو الْقُوَّۃِ اَلْمَتِیْنُ] فرمانے میں …و اللہ تعالیٰ أعلم… حکمت یہ ہے، کہ اُن کے رزق عطا فرمانے میں کسی کے بھی رکاوٹ بننے کی مجال نہیں۔ وہ جسے، جب، جتنا اور جیسے چاہیں، محض اپنی مشیئت سے عطا فرماتے ہیں۔[2] ۶: ربِّ کریم نے …ابراہیم علیہ السلام کی اپنی قوم کو دی ہوئی دعوت کو نقل کرتے ہوئے… فرمایا: {اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا}[3] [بلاشبہ وہ لوگ، جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو، تمہارے لیے کسی رزق کے مالک نہیں]۔ آیتِ شریفہ کے حوالے سے دو باتیں: i: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے بھی رزق کے مالک نہ ہونے کو بیان کرتے ہوئے پہلے [لَا] نافیہ اور پھر [رِزْقًا] نکرہ استعمال کیا اور [لَا] نافیہ کے اسم نکرہ پر داخل ہونے سے عموم کی نفی ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے سوا پکارے جانے والوں کے، کسی بھی قسم کے، رزق کے مالک ہونے، کی نفی فرمائی۔[4] ii: جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور کسی بھی قسم کے رزق کا مالک ہی نہیں، تو پھر اُس سے رزق طلب کرنے یا ملنے کی امید رکھنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۴/۲۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۴۳۲؛ و تفسیر أبي السعود ۸/۱۴۵؛ و تفسیر التحریر و التنویر ۲۷/۲۹۔ [2] ملاحظہ ہو: تفسیر السعدي ص ۸۱۳؛ و تفسیر التحریر و التنویر ۲۷/۲۹۔ [3] سورۃ العنکبوت / جزء من الآیۃ ۱۷۔ [4] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۰۱؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۰۶؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۳۴۔