کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 26
دوسری مرتبہ والا [مِنْ] یہ فائدہ دیتا ہے، کہ کوئی شریک بھی مذکورہ بالا چاروں کاموں میں سے [کچھ بھی] نہیں کر سکتا۔ تیسری بار کا استعمال کردہ [مِنْ] سابقہ دونوں استعمال کردہ [مِنْ] سے حاصل شدہ نفی کی مزید تاکید کرتا ہے۔[1] iii: اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے واضح فرمایا: (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰے عَمَّا یُشْرِکُوْنَ) کہ وہ پاک اور بہت بلند و بالا ہیں، کہ اُن چاروں کاموں یا اُن میں سے کسی ایک کام کے کچھ بھی کرنے میں کوئی اُن کا شریک ہو۔ ۵: ارشادِ باری تعالیٰ: {مَآ أُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ أُرِیْدُ أَنْ یُّطْعِمُوْنِ۔ إِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ}[2] [نہ میں اُن سے رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں، کہ وہ مجھے کھلائیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی بے حد رزق دینے والے، طاقت والے، نہایت مضبوط ہیں]۔ آیاتِ شریفہ کے حوالے سے تین باتیں: i: اہلِ عرب میں رواج تھا، کہ غلام اپنے آقاؤں کے لیے کما کر لاتے تھے۔ ربِّ کریم نے پہلی آیتِ شریفہ میں اس حقیقت کو واضح فرمایا، کہ اُن کا معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ دنیوی آقاؤں والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں سے نہ تو رزق چاہتے ہیں اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں، کہ وہ انہیں کھلائیں۔ ii: دوسری آیتِ کریمہ میں انہوں نے بیان فرمایا، کہ وہ ہی بے حد رزق عطا [1] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۲۴؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۲۲؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۶۲۔ [2] سورۃ الذاریات / الآیتین ۵۷-۵۸۔