کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 25
شَیْئٍ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰے عَمَّا یُشْرِکُوْنَ}[1] [اللہ تعالیٰ وہ ہیں، جنہوں نے تمہیں پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا، پھر تمہیں موت دیں گے، پھر تمہیں زندہ کریں گے۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے، جو تمہارے ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے؟ وہ پاک ہیں اور بہت بلند ہیں، اُس سے، جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں]۔ آیتِ کریمہ کے حوالے سے تین باتیں: i: ربِّ کریم نے اس آیتِ شریفہ میں [إِلٰہ] اور معبود ہونے کے چار لوازمات: [پیدا کرنا]، [رزق دینا]، [موت دینا] اور [زندہ کرنا] اپنے لیے ہونے کا ذکر فرمایا اور اپنے سوا کسی بھی اور کے لیے اُن میں سے کسی ایک کے بھی ہونے کی نفی فرمائی۔[2] ii: (ہَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْئٍ) [کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے، جو تمہارے ان کاموں میں سے کچھ بھی کرے؟] اللہ تعالیٰ نے آیتِ شریفہ کے اس ٹکڑے میں حرف جار [مِنْ] تین مرتبہ استعمال فرمایا اور ہر استعمال کردہ [حرف جار] نفی کے عموم پر دلالت کرنا ہے۔ پہلی دفعہ والا [مِنْ] اس بات پر دلالت کرتا ہے، کہ لوگوں کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے [کوئی بھی] ایسا نہیں۔ [1] سورۃ الروم/ الآیۃ ۴۰۔ [2] ملاحظہ ہو: الکشاف ۳/۲۲۴؛ و تفسیر البیضاوي ۲/۲۲۲؛ و تفسیر أبي السعود ۷/۶۲؛ و تفسیر السسعدي ص ۶۴۳۔