کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 20
-ب- صرف اللہ تعالیٰ کا رازق ہونا قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کو واشگاف اور صریح انداز سے بیان کیا گیا ہے، کہ کائنات میں رزق دینے والے صرف ربِّ کریم ہیں۔ اُن کے سوا کسی میں بھی رزق دینے کی بالکل صلاحیت اور استعداد نہیں۔ سات دلائل: ۱: ارشادِ ربانی: {وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔ فَوَرَبِّ السَّمَآئِ وَالْأَرْضِ إِِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ أَ نَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ}[1] [اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ (بھی) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ پس آسمان اور زمین کے رب کی قسم! بلاشبہ وہ (بات) یقینا ویسے ہی حق ہے، جیسے کہ تم بے شک بولتے ہو]۔ ان آیات کے حوالے سے چار باتیں: i: [وَ فِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ] [جملہ اسمیہ] ہے اور یہ کسی چیز کے ثبوت اور دوام پر دلالت کرتا ہے۔[2] اس طرح مراد …و اللہ تعالیٰ أعلم… یہ ہے، کہ آسمان ہی کی طرف سے رزق کا ہونا وقتی، عارضی یا حادثاتی بات نہیں، بلکہ ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے، جس میں تغیّر و تبدّل نہیں۔ ii: معمول کے مطابق جملے کی ترتیب [رِزْقُکُمْ فِی السَّمَآئِ] ہوتی ہے۔ ربِّ [1] سورۃ الذاریات / الآیتین ۲۲-۲۳۔ [2] ملاحظہ ہو: روح المعاني ۲۲/۷۵۔