کتاب: رزق اور اس کی دعائیں - صفحہ 12
۲: احادیثِ شریفہ کو عام طور پر اُن کے اصلی مآخذ و مراجع سے نقل کیا گیا ہے۔ ۳: صحیحین کے علاوہ دیگر کتبِ حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کے اقوال پیش کیے گئے ہیں۔ صحیحین کی احادیث کی صحت پر اجماعِ امت کے پیشِ نظر اُن کے متعلق اب اہلِ علم کے اقوال ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔[1] ۴: آیات و احادیث سے استدلال کرتے وقت کتبِ تفسیر اور شروحِ حدیث سے استفادے کی مقدور بھر کوشش کی گئی ہے۔ ۵: رزق طلب کرنے کی دعائیں راقم السطور کی کتاب [رزق کی کنجیاں] کے زیرِ طبع ایڈیشن سے نقل کی گئی ہیں۔ البتہ وہاں یہ دعائیں قدرے تفصیل اور اس کتاب میں قدرے اختصار سے ہیں۔ ۶: کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کے متعلق تفصیلی معلومات درج کر دی گئی ہیں۔ کتاب کا خاکہ: توفیقِ الٰہی سے کتاب کو درجِ ذیل سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: (ا) اللہ تعالیٰ کا ہی کائنات کے تمام خزانوں کا مالک ہونا۔ (ب) صرف اللہ تعالیٰ کا رازق ہونا۔ (ج) اللہ تعالیٰ کا کائنات کی ہر چیز کا رازق ہونا۔ (د) رزق میں وسعت اور تنگی کا صرف مشیئتِ الٰہی سے ہونا۔ (ہ) اللہ وحدہٗ لا شریک سے ہی رزق کا طلب کرنا۔ (و) رزق طلب کرنے کے لیے چھبیس دعائیں۔ [1] تفصیل کے ملاحظہ ہو: مقدمۃ النووي لشرحہ علٰی صحیح مسلم ص ۱۴؛ و نزہۃ النظر في توضیح نخبۃ الفکر للحافظ ابن حجر ص ۴۹۔