کتاب: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا - صفحہ 83
((اللّٰهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ)) ’’اس پر اللہ کی لعنت کہ باربار پکڑ کر دربار رسالت میں پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ((لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللّٰهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ))(صحیح البخاری، الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر۔۔۔، ح: ۶۷۸۰) حالانکہ آپ نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں اور معلوم ہے کہ ہر مومن اللہ اور رسول سے ضرور محبت رکھتا ہے۔ یزید پر لعنت سے پہلے دو چیزوں کا اثبات ضروری ہے: صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ بالآخر دوزخ سے نجات پائے گا۔ بنابریں جو لوگ یزید کی لعنت پر زور دیتے ہیں انہیں دو باتین ثابت کرنی چاہئیں۔اول یہ کہ یزید ایسے فاسقوں اور ظالموں میں سے تھا جن پر لعنت کرنا مباح ہے۔اور اپنی اس حالت پر موت تک رہا۔دوسرے یہ کہ ایسے ظالموں اور فاسقوں میں سے کسی ایک کو معین کرکے لعنت کرنا روا ہے۔رہی آیت﴿ أَلاَ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾(ہود: ۱۸/۱۱)تو یہ عام ہے جیسا کہ باقی تمام آیات وعید عام ہیں۔اور پھر ان آیتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے یہی کہ یہ گناہ لعنت اور عذاب کا مستوجب ہے؟ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے اسباب آکر لعنت وعذاب کے اسباب کو دور کردیتے ہیں مثلاً گناہ گار نے سچے دل سے توبہ کرلی یا اس سے ایسی حسنات بن آئیں جو سیئات کو مٹا دیتی ہیں۔یا ایسے مصائب پیش آئے جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔بنابریں کون شخص دعویٰ کرسکتا ہے کہ یزید اور اس جیسے بادشاہوں نے توبہ نہیں کی، یا سیئات کو دور کرنے والی حسنات انجام نہیں دیں یا گناہوں کا