کتاب: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا - صفحہ 80
دندان مبارک پر چھڑی مارنے کا واقعہ: صحیح طور پر صرف اس قدر ثابت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو آپ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے سامنے لایا گیا۔اس نے اپ کے دانتوں پر چھڑی ماری اور آپ کے حسن کی مذمت کی۔مجلس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ دوصحابی موجود تھے انس نے اس کی تردید کی اور کہا۔‘‘آپ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔" صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ اور صحابہ کو بھی آپ کی شہادت سے از حد ملال تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے پوچھا کہ حالت احرام میں مکھی کا جائز ہے؟ انہوں نے خفا ہوکر جواب دیا: ’’اے اہل عراق تمہیں مکھی کی جان کا اتنا خیال ہے حالانکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کرچکے ہو۔‘‘ بعض روائتوں میں دانتوں پر چھڑی مارنے کا واقعہ یزید کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو بالکل غلط ہے کیونکہ جو صحابی اس واقعے میں موجود تھے وہ دمشق میں نہیں تھے عراق میں تھے۔ یزید نے حضرت حسین کے قتل کا حکم نہیں دیا: متعدد مؤرخین نے جو نقل کیا ہے وہ یہی ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ یہ بات ہی اس کے پیش نظر تھی بلکہ وہ تو اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کی تعظیم وتکریم کرنا چاہتا تھا۔البتہ اس کی یہ خواہش تھی کہ آپ خلافت کے مدعی ہوکر اس پر خروج نہ کریں۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب کربلا پہنچے اور آپ کو اہل کوفہ کی بے وفائی کا یقین ہوگیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہوگئے تھے۔مگرمخالفوں کی بے وفائی کا یقین ہوگیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہوگئے تھے۔مگر مخالفوں نے نہ انہیں وطن واپس ہونے دیا، نہ جہاد پر جانے دیا اور نہ یزید کے پاس بھیجنے پر رضامند ہوئے بلکہ قید کرنا چاہا جسے آپ نے نامنظور کیا اور شہید ہوگئے۔یزید اور اس کے خاندان کو جب یہ خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور روئے بلکہ یزید نے تو یہاں تک کہا۔