کتاب: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا - صفحہ 30
’’امام’‘اور’’علیہ السلام‘‘: اسی طرح اہل سنت کی اکثریت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا سوچےسمجھے’’اما م حسین علیہ السلام’‘بولتی ہے حالانکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ’’امام’‘کا لفظ بولنا اور اسی طرح’’رضی اللہ عنہ‘‘کے بجائے’’علیہ السلام’‘کہنا بھی شیعیت ہے۔ہم تمام صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عزت و احترام کے لیے’’حضرت’‘کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر،حضرت عثمان، حضرت علی وغیرہ۔ہم کبھی "امام ابو بکر صدیق، امام عمر" نہیں بولتے۔اسی طرح ہم صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کے بعد’’رضی اللہ عنہ’‘لکھتے اور بولتے ہیں۔اور کبھی’’ابو بکر صدیق علیہ السلام یا حضر ت عمر علیہ السلام’‘نہیں بولتے، لیکن حضرت حسین کے ساتھ’’رضی اللہ عنہ’‘کے بجائے’’علیہ السلام’‘بولتے ہیں۔کبھی اس پر بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ دراصل یہ شیعیت کا وہ اثر ہے جو غیر شعوری طور پر ہمارے اندر داخل ہوگیا ہے اس لیے یاد رکھیے کہ چونکہ شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ’’امامت’‘کا بھی ہے اور امام ان کے نزدیک انبیاء کی طرح من جانب اللہ نامزد اور معصوم ہوتا ہے۔حضرت حسین بھی ان کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں، اس لیے ان کے لیے’’امام’‘کا لفظ بولتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے’’علیہ السلام’‘لکھتے اور بولتے ہیں۔ہمارے نزدیک وہ ایک صحابی ٔ رسول ہیں "امام معصوم" نہیں، نہ ہم شیعوں کی امامت معصومہ کے قائل ہی ہیں۔اس لیے ہمیں انہیں دیگر صحابہ ٔ کرام کی طرح’’حضرت حسین رضی اللہ عنہ’‘لکھنا اور بولنا چاہیے۔’’امام حسین علیہ السلام’‘نہیں۔کیونکہ یہ شیعوں کے معلوم عقائد اور مخصوص تکنیک کے غماز ہیں۔ یزید پر سب و شتم کا مسئلہ: اسی طرح ایک مسئلہ یزید پر سب و شتم کا ہے جسے بدقسمتی سے رواج عام حاصل ہوگیا ہے اور بڑے بڑے علامہ فہامہ بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں،بلکہ اس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے اور اس کو’’حب حسین’‘اور’’حب اہل بیت’‘کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی اہل سنت کے مزاج اور مسلک سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے محققین علمائےاہل