کتاب: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا - صفحہ 25
…۶… اہل سنت کے غور وفکر کے لیے چند باتیں ماہ محرم کی ان بدعات و رسومات غیر شرعیہ کے علاوہ واقعۂ کربلاسے متعلق بھی اکثر اہل سنت کا زاویہ ٔ فکر صحیح نہیں۔اس سلسلے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں، امید ہے کہ اہل سنت حلقے اس پر پوری سنجیدگی، متانت اور علم وبصیرت کی روشنی میں غور فرمائیں گے۔ کیا یہ معرکہ،حق و باطل کا تھا یا عام معمول کے مطابق ایک حادثہ؟ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے خطباء اور وعاظ فلسفہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً شیعی انداز فکر اور رافضی آئیڈیالوجی کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے متعلق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔یہ واعظین خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دور خیر القرون میں جب کہ صحابہ ٔ کرام کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یافتگان تابعین تو بکثرت تھے اس معرکے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہی اکیلے کیوں صف آراء ہوتے؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفر واسلام کا اور صحابہ و تابعین اس سے نہ صرف یہ کہ الگ رہتے بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی اس سے روکتے،کیا ایسا ممکن تھا؟ شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ(معاذ اللہ)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کفر و ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں اور وہ یہی کہیں گے کہ ہاں اس معرکہ ٔ کفر و اسلام میں ایک طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف صحابہ سمیت یزید اور دیگر ان کے تمام حمایتی،صحابہ و تابعین اس جنگ میں خاموش تماشائی بنے رہے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اسلام کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔