کتاب: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا - صفحہ 20
کا فتویٰ ہے۔ ’’تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔’‘(عرفان شریعت، حصہ اول، صفحہ: ۱۵) ان کا ایک مستقل رسالہ’’تعزیہ داری’‘ہے، اس کے صفحہ ۴ پر لکھتے ہیں: ’’غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا۔‘‘ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں۔" ’’کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کردیے۔یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں۔اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے۔قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے۔‘‘ صفحہ ۱۱ پر لکھتے ہیں: ’’تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے۔اگر نیاز دے کر چڑھائیں، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں۔‘‘ اور صفحہ ۱۵ پر حسب ذیل سوال، جواب ہے۔ سوال:تعزیہ بنانا اور اس پر نذر ونیاز کرنا، عرائض بہ امید حاجت برآری لٹکانا اور نہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا کیسا گناہ ہے؟ جواب:افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں، بدعت سیئہ و ممنوع و ناجائز ہیں۔ اسی طرح محرم کی دوسری بدعت مرثیہ خوانی کے متعلق’’عرفان شریعت’‘کے حصہ اول صفحہ ۱۶ پر ایک سوال و جواب یہ ہے۔ سوال:محرم شریف میں مرثیہ خوانی میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟ جواب:ناجائز ہے، وہ مناہی و منکرات سے پر ہوتے ہیں۔ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھا جاتا ہے،اس لیے بالعموم ان ایام میں سیاہ یا سبز لباس پہنا جاتا