کتاب: رُشدشمارہ 06 - صفحہ 86
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’دِيَةُ الْمَرْأَةِ فِي الْخَطَأِ مِثْلُ دِيَةِ الرَّجُلِ حَتَّى تَبْلُغَ ثُلُثَ الدِّيَةِ، فَمَا زَادَ فَهُوَ عَلَى النِّصْفِ. ‘‘[1] ’’خطا میں عورت کی دیت مرد کی دیت کی مانند ہے، یہاں تک کہ ایک تہائی دیت تک پہنچ جائے،جو اس سے زائدہو وہ مرد کی دیت کی نصف ہو گی۔‘‘ قاضی ابو شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشام بن ہبیرہ رحمہ اللہ (متوفیٰ 72ھ) نے ان سے سوال کیا، جس کے جواب میں انہوں نے لکھا: ’’أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ. ‘‘[2] ’’بے شک عورت کی دیت مرد کی دیت کی نصف ہے۔‘‘ حسن بصری رحمہ اللہ (متوفیٰ 110ھ) سے مروی ہے: ’’يَسْتَوِي جِرَاحَاتُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ عَلَى النِّصْفِ. ‘‘[3] ’’مردوں کے زخم مساوی ہیں اور عورتیں اس کے نصف پر ہیں۔‘‘ سعید بن مسیب اور عمر بن عبد العزیز رحمہم اللہ دونو ں سے مروی ہے: ’’يُعَاقِلُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فِي ثُلُثِ دِيَتِهَا، ثُمَّ يَخْتَلِفَانِ. ‘‘[4] ’’ایک تہائی دیت تک مرد اور عورت برابر ہیں، پھر اس کے بعد مختلف ہوں گے۔‘‘ 3۔اجماع سے آدھی دیت کا ثبوت تمام اہل علم کا عورت کی دیت آدھی ہونے پر اجماع ہے اور اس سلسلہ میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔احناف سے امام کاسانی رحمہ اللہ [5] اور امام سمر قندی رحمہ اللہ[6] نے، شافعیہ میں سے امام نووی رحمہ اللہ[7] اور امام زکریا انصاری رحمہ اللہ [8]نے،مالکیہ میں سے امام ابن رشد رحمہ اللہ[9] اور امام ابن عبد البر رحمہ اللہ اور حنابلہ میں سے امام ابن قدامہ [1] مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الديات، باب في جراحات الرجال والنساء: 27497 [2] أيضاً [3] أيضاً: 27499 [4] أيضاً: 27506 [5] بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: 16/352 [6] تحفة الفقهاء: 3/114 [7] النووي، أبو زكريا، محي الدين يحيي بن شرف، المجموع شرح المهذب: 19/54، دار الفكر، بيروت [8] السنيكي، زكريا بن محمد بن زكريا، أسنى المطالب في شرح روض الطالب: 4/48، دار الكتاب الإسلامي، بيروت [9] بداية المجتهد: 2/338