کتاب: رُشدشمارہ 06 - صفحہ 74
بیس راتیں آپ کے پاس قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی نرم دل انسان تھے ۔ جب سے آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنے اہل وعیال سے اداس ہوگئے ہیں تو آپ نے ہم سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں دریافت کیا ، ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا: تم جاؤ اپنے گھر لوٹ جاؤ، ان میں نماز قائم کرو، انہیں سکھاؤ اور انہیں نماز کا حکم دو۔ [1] امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ ان میں سے ہر آدمی اپنے گھروالوں کے لیے خبر واحد کی حیثیت رکھتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اعتماد کا اظہار فرمایا جو خبر واحد کی حجیت پر دلیل ہے۔ ۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک بلال رات کو اذان دیتے ہیں ۔ تم کھاؤ پیو،یہاں تک کہ عبداللہ بن ام مکتوم اذان دیں۔ [2] اذان کے حوالے سے اس روایت میں بھی سیدنا بلال اور سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما فرد واحد کی خبر پر اعتماد کیا گیا ہے ۔ ۳۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم قبا میں نماز صبح ادا کررہے تھے کہ ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: بےشک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل ہوا ہے اور آپ کو استقبالِ کعبہ کا حکم دیا گیا ہے ۔لہٰذا تم بھی کعبہ کی طرف منہ پھیرلو۔ ان کے منہ شام کی طرف تھے، چنانچہ وہ سب کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [3] اس روایت میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر واحد پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے منہ پھیرے تھے۔ ۴۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابو طلحہ انصاری ، ابو عبیدہ بن جراح اور ابی بن کعب کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ بے شک شراب حرام کردی گئی ہے ۔ ابو طلحہ نے کہا : اے انس! اُٹھو! ان برتنوں کو توڑ دو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اٹھا اور ایک ہتھوڑا ان پر دے مارا کہ جن سے وہ ٹوٹ گئے۔ [4] اس حدیث مبارکہ میں بھی خبر دینے والے تنہا شخص کی خبر پر اعتماد کیا گیا ہے ۔ مذکورہ ابواب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ خبر واحد کی حجیت وقبولیت کے قائل تھے ۔ہاں البتہ اگر خبرواحد کے ثبوت میں تردّد ہو جائے تو اس کی تحقیق وتفتیش کرنا از حد ضروری ہے ۔ جس طرح سیدنا ابو بکر صدیق نے دادی کی میراث کے حوالے سے کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں بھول جانے کے بعد [1] صحيح البخاري، كتاب الأذان، باب إذا استووا في القراءة فليؤمهم أكبر: 685 [2] صحيح البخاري، كتاب الشهادات، باب شهادة الأعمى: 2656 [3] صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 399 [4] صحيح البخاري، كتاب الأشربة، باب نزل تحريم الخمر وهي من البسر والتمر: 5582