کتاب: رُشدشمارہ 06 - صفحہ 60
محمد بن ادریس قرافی رحمہ اللہ (متوفیٰ 784ھ) لکھتےہیں: ’’خبر العدد الواحد أو العدول المفید للظن. ‘‘[1] ’’ایک یا ایک سے زیادہ عادل راویوں کی ایسی خبر جس سے علم ظنی حاصل ہو۔‘‘ ابوالولید باجی رحمہ اللہ (متوفیٰ 474ھ) خبر واحد سے متعلق فرماتے ہیں: ’’ما لم یقع العلم المخبره ضرورة من جهة الإخبار به وإن کان الناقلون له جماعة. ‘‘[2] ’’ہر وہ چیز جس سے علم ضروری حاصل نہ ہو چاہے اس کے راوی، جماعت کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو خبر واحد ہے۔‘‘ ان تعریفوں کی روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ جمہور کے ہاں ہر وہ خبر جو متواترنہیں،خبر واحد ہے۔ اور مشہور، مستفیض وغیرہ خبر واحد کی اقسام ہیں۔ احناف كے ہاں خبر واحد کی تعریف خبر واحد کی تعریف کو فخر الاسلام بزدوی رحمہ اللہ (متوفیٰ482ھ) نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’هو کل خبر یرویه الواحد أو اثنان فصاعداً لا عبرة للعدد فیه بعد أن یکون دون المشهور والمتواتر. ‘‘[3] ’’ہر وہ خبر جس کو ایک، دو یا اس سے زیادہ راوی روایت کریں او راس میں راویوں کی کوئی تعداد معتبر نہیں ،مگر یہ کہ وہ خبر مشہور اور متواتر کے درجہ تک نہ پہنچے۔‘‘ [4] گویا احناف کے نزدیک خبر واحد وہ ہے جس کو ایک راوی دوسرے ایک راوی سے نقل کرے۔ ایک راوی جماعت سے روایت کرے یا راویوں کی ایک جماعت ایک راوی سے روایت کرے۔ ان کے نزدیک راویوں کی تعداد کا اعتبار نہیں جب تک حدیث مشہور یا متواتر کی حد تک نہ پہنچے۔ [1] القرافي، شهاب الدين أحمد بن إدريس، شرح تنقيح الفصول في إختصار المحصول في الأصول: ص356، شركة الطباعة الفنية المتحدة، الطبعة الأولى، 1973م [2] الباجي، أبي الوليد سليمان بن خلف، إحکام الفصول في أحکام الأصول: ص235، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى، 1989م [3] البزدوي، أبو الحسن علي بن محمد، أصول البزدوي: ص152، نور محمد كارخانه تجارت كتب، كراچی [4] السمرقندي، علاء الدين شمس النظر أبي بكر بن محمد أحمد، ميزان الأصول في نتائج المعقول: ص431، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، قطر، الطبعة الثانية، 1418ھ