کتاب: رُشدشمارہ 06 - صفحہ 46
اور نہ انہیں جھٹلایا جاتا۔ [1] بعض حضرات نے عہدِ صحابہ میں تین اُصول تفسیر بیان کئے ہیں ، انہوں نے اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی کتب وغیرہ سے استفادہ کو اجتہاد میں ہی شامل کر دیا ہے۔ مفسرین صحابہ صحابہ کرام میں تفسیر قرآن کے حوالے سے مشہور لوگ حسب ذیل ہیں: سیدنا ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی، علی بن ابی طالب، ابن مسعود، ابن عباس، اُبی بن کعب ، زید بن ثابت ، ابو موسیٰ اشعری اور عبد اللہ بن زبیر ۔ بعض صحابہ کرام وہ ہیں جن سے تفسیری روایات مروی ہیں لیکن ان کی شہرت اس بارے میں ان دس صحابہ کرام جیسی نہیں مثلاً سیدنا انس بن مالک ، ابو ہریرہ ، عبد اللہ بن عمر ، عبد اللہ بن عمرو بن العاص اور اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ۔یہ دس مشہور مفسّر صحابہ کرام تفسیری روایات کی قلت وکثرت کے اعتبار سے برابر نہ تھے۔ سیدنا ابو بکر صدیق وعمرفاروق سے بہت کم تفسیری اقوال منقول ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : ۱۔ وہ زیادہ عرصہ بقید حیات نہ رہے۔ ۲۔ ان کی حکومتی مصروفیات۔ ۳۔ اس دَور میں ایسے صحابہ کی کمی نہ تھی جو قرآن ہی کے ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ کتاب اللہ کے اسرار وغوامض اور احکام ومعانی کے رازدان تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ خالص عرب ہونے کی بناء پر عربی زبان سے پوری طرح آگاہ تھے۔ خلفائے راشدین میں سے سب سے زیادہ تفسیری اقوال سیدنا علی سے مروی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عرصہ دراز تک تاخلافتِ عثمانی اُمورِ سلطنت سے الگ تھلگ رہے۔ پھر اس زمانہ تک بقیدِ حیات رہے، جب اسلام مختلف اکناف ارضی میں پھیلا۔ عجمی اقوام دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں اور اس طرح تفسیر قرآن کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ گئی۔ اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن مسعود اور ابی بن کعب سے بھی بکثرت تفسیری اقوال منقول ہیں۔ اس لئے کہ اس دَور میں لوگ تفسیر قرآن کے محتاج تھے۔ علاوہ ازیں سیدنا علی اور یہ تینوں صحابہ مندرجہ ذیل خصوصیات کے حامل تھے: ۱۔ عربی زبان میں مہارت اور اس کے اسالیبِ بیان سے گہری مناسبت۔ [1] التّفسير والمفسّرون: 1/63