کتاب: رُشدشمارہ 06 - صفحہ 16
البحوث الإسلامیة‘‘اسلامی نظریاتی کونسل ہو یا’’هيئة کبار العلماء السعودیة‘‘، اجتماعی اجتہاد کے ان تمام اداروں کے اراکین اپنے ممالک کے علماء کی بھی غالب اکثریت پر مشتمل نہیں ہیں، چہ جائیکہ کہ وہ عالمِ اسلام کے جمہور علماء کی نمائندگی کر رہے ہوں۔اجتماعی اجتہاد کے نام پر جو بھی ادارے اس وقت کام کر رہے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ملتِ اسلامیہ کے جمہور تو کیا ایک عشر عشیر پر بھی مشتمل ہو۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اجتماعی اجتہاد کی اس تعریف کو خود اس معیار پر پیش کیا جائے جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کیاہے، تو یہ اس پربھی پوری نہیں اترتی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اجتماعی اجتہاد کے لیے علماء کی اکثریت کی قید لگائی ہے جبکہ علماء کی اکثریت اجتماعی اجتہاد کی اس تعریف کی قائل ہی نہیں ہے جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کئی ایک بر اعظموں میں پھیلی ہوئی ہے اور تمام دنیا سے علماء کی اکثریت کو جمع کرناایک بہت ہی مشکل کام ہے۔اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ البانی رحمہ اللہ (متوفیٰ 1999ء) نے ڈاکٹر عبد المجید السؤسؤۃ کی تعریف پر نقد کی ہے ۔وہ لکھتے ہیں: ’’وقد جاء بقیدین، أحدهما أبعد عن الامکان من الآخر، فإن قوله:’’أغلب الفقهاء‘‘! کیف یمکن مع تفرقهم في البلاد الإسلامیة الشاسعة؟! ثم کیف یمکن جمعهم في مکان واحد حتی یتشاوروا في الحکم ؟!. ‘‘[1] ’’ڈاکٹر عبد المجید السؤسؤۃنے اجتماعی اجتہاد کی تعریف میں دو قیدوں کو بیان کیا ہے جبکہ ان میں ہرایک کا امکان دوسری سے بڑھ کر ناممکن ہے۔ڈاکٹر عبد المجید السؤسؤۃنے فقہاء کی اکثریت کی شرط لگائی ہے، حالانکہ اس اکثریت کا اجتماع کیسے ممکن ہے جبکہ علماء مختلف اسلامی ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں۔ان سب کو ایک جگہ جمع کرنا کیسے ممکن ہے جبکہ ان کی آپس کی مشاورت تو اس اجتماع کے بعد کا معاملہ ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر عبد المجید السؤسؤۃنے اپنی تعریف میں دوسری قید یہ لگائی ہے کہ یہ اجتہاد کسی شرعی حکم سے متعلق ظن غالب کو حاصل کرنے کے لیے ہو گا، جبکہ یہ امر واضح ہے کہ اجتہاد سے بعض اوقات ظن غالب حاصل ہوتاہے اور بعض صورتوں میں علم قطعی ، خصوصاً جبکہ اس اجتہاد پر ما بعد کے زمانوں میں اجماع بھی منعقد ہو جائے۔ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمیدلکھتے ہیں: ’’عبارة (لتحصیل ظن بحکم شرعی) هذا الوصف غیر دقیق فإن کان المقصود به المجتهد فإنه قد [1] الألباني، محمد ناصر الدين بن الحجاج، سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة: 10/437، دار المعارف، الرياض، الطبعة الأولى، 1412ھ