کتاب: رُشدشمارہ 05 - صفحہ 124
روایت پر بھی ’’مرسل‘‘ کا اطلاق کردیتے تھے اور ’’متصل‘‘ پر لفظ ’’مسند‘‘ کا اطلاق کردیتے تھے۔
۲۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ (متوفیٰ 124ھ) نے کہا کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اگر آدمی اپنی بیوی کی ماں سے وطی کر لے تو اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی ۔ یہ مرسل روایت ہے ۔ [1]
امام زہری رحمہ اللہ کی سیدنا علی سے ملاقات نہیں ہے، لہٰذا یہ ’’منقطع‘‘ روایت ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’منقطع‘‘ پر لفظ ’’مرسل‘‘ کا اطلاق کیا ہے ۔
اس کے برعکس بسااوقات امام بخاری رحمہ اللہ ’’مرسل‘‘ پر ’’منقطع‘‘ کا اطلاق کردیتے ہیں جیسے امام بخاری رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت اسود رحمہ اللہ کے طریق سے بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ’’اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد تھا اور اسود کا یہ قول منقطع ہے۔‘‘ [2] حالانکہ اسود کبار تابعین میں سے ہیں اور ان کی یہ روایت مرسل ہوگی۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے اس قول’’ قول الأسود منقطع ‘‘سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرسل پر لفظ منقطع کے اطلاق کے جواز کے قائل تھے۔
جہاں تک مرسل روایت کی حجیت کی بات ہے تو امام بخاری رحمہ اللہ مرسل روایت سے نہ تو دلیل پکڑتے ہیں اور نہ ہی اسے صحیح سمجھتے ہیں ، بلکہ اس کو ردّ کردیتے ہیں، جیسے آپ نماز میں سورۃ الفاتحہ کی عدم فرضیت کے قائلین کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہ ’’امام کی قراءت ہی مقتدی کی قراءت ہے‘‘ کے بعد فرماتے ہیں کہ کہا جائے گا کہ یہ خبر اہل حجاز وعراق وغیرہ کے ہاں ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ مرسل اور منقطع روایت ہے ۔اس روایت کو ابن شداد نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو حسن بن صالح نے جابر سے اور انہوں نے ابو الزبیر سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔اور معلوم نہیں کہ جابر نے ابوزبیر سے سنا ہے یا نہیں، لہٰذا یہ ارسال اور انقطاع اس روایت کے اسباب ضعف میں سے ایک ہے ۔ [3]
اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے مذکورہ قول ’’وقول الحکم مرسل‘‘ سے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے بعد ابن عباس کا قول’’رأيته عبدا ‘‘لائے ہیں اور اسے ہی ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے ۔ [4]
ابن عباس کے قول کو صحیح قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ حَکم رحمہ اللہ اور اسود رحمہ اللہ دونوں کا قول کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا، ایک تو مرسل ہونے کی بناء پر اور دوسرا سیدنا ابن عباس کے قول’’ رأيته عبدا ‘‘کے متعارض
[1] صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب ما يحل من النساء وما يحرم ...: 5105
[2] صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب ميراث السائبة ...: 6754
[3] البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل، جزء القراءة خلف الإمام: ص 8، المكتبة السلفية، الطبعة الأولى، 1980م
[4] صحيح البخاري: كتاب الفرائض، باب الولاء لمن أعتق وميراث اللقيط ...: 6751