کتاب: رُشدشمارہ 02 - صفحہ 61
۷۔ نصوص شرعیہ کی تعبیر و تشریح میں علما کے مناہج مختلف ہوتے ہیں۔راجح فقہی اقوال کی تدوین و تقنین کی صورت میں قانون کے مدوِّن کو جن حالات سے واسطہ پڑا ہو گا وہ ان کا لحاظ رکھتے ہوئے قانون سازی کرے گاجبکہ خارج میں مثال کے طور پر ایک ہی جرم کے ارتکاب میں مجرمین کی نفسیات، ان کا ماحول، جرم میں خارجی عناصرکا عمل دخل اور اسباب جرم وغیرہ مختلف ہوتے ہیں۔پس ایک ہی جرم سے متعلق مختلف حالات، اسباب، نفسیات اور پس منظر میں ہر مجرم پر ایک ہی سزا لاگو کرنا انصاف کا تقاضا نہیں ہے۔عدم تقنین کی صورت میں ایک قاضی اس قانونی جمود یا تنگی کا پابندنہیں ہوتا ہے۔ [1] ۸۔ بعض اسلامی ممالک میں راجح فقہی اقوال کی تقنین کے تجربات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکمران اور عامۃ الناس شرعی احکام کے مطابق فیصلوں سے بدظن ہو گئے اور دل کی تسلی کی خاطر عائلی زندگی اور بعض سزاؤں میں شرعی احکام کی تقنین کے علاوہ بالآخر بقیہ جمیع معاملات میں وضعی وانسانی قوانین کی طرف رجوع کیا گیا۔ [2] ۹۔ ایک اعتراض یہ بھی کیا گیاہے کہ فقہی اقوال کی تقنین اجتہاد کا درواز ہ بند کر دے گی اور قانون سازی کے عمل کی صورت میں اجتہادی تحریک، فکری نشوونمااور علمی مباحثے و مکالمے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ [3]مولانا عبد الرحمن مدنی حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’تقنین سے فرد و معاشرہ کو ایک خاص تعبیر شریعت کی تقلید کا پابند قرار دے کر اجتہاد کے دروازے ان پر بند کر دیے جاتے ہیں۔قرآن مجید کی نظر میں اس کا نام’إصر وأغلال‘ ہے۔‘‘ [4] اس کاجواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ فقہی اقوال کی تقنین کی صورت میں قاضیوں کے اجتہاد پر کلی طور پر پابندی نہیں ہوگی بلکہ نئے پیش آمدہ مسائل،کہ جن میں پہلے سے کوئی قانون موجود نہ ہو، میں مجتہد قاضیوں کو اجتہاد کا اختیار ہو گا۔اسی طرح تہذیب و تمدن کے نئے مسائل میں تقنین کی جب ضرورت پیش آئے گی تو علما اور قاضیوں کی مجالس اجتہاد کے ذریعے قانون سازی کریں گی۔علاوہ ازیں متعین قوانین کی تطبیق(application) میں بھی قاضیوں کے لیے اجتہاد کی گنجائش باقی رہے گی۔ ۱۰۔ ایک اعتراض یہ بھی وارد کیاگیا ہے کہ تقنین کا لفظ غیر عربی ہے اور یہ اصطلاح بہت سے غیر شرعی تصورات کو شامل ہے۔پس اس اصطلاح کا استعمال شروع میں لفظ اور کچھ عرصہ بعد اس کے مروجہ مغربی تصورات پر [1] اصلاحی، امین احسن، اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل : ص99، فاران فاؤنڈیشن، لاہور، 1982ء [2] مجموع الفتاوی:7/71