کتاب: رُشدشمارہ 02 - صفحہ 36
اقوال یا آراء ہوتی ہیں۔پس علماے امت کو اس بڑے اور عمومی مذہب کی طر ف ر جوع کرناچاہیے اور اس کی بنیاد پر قضاء اور فتویٰ کے میدانوں میں وہ ایسی قانون سازی کریں ، جو موجودہ زمانے کے حالات اور ہر زمانے کے مصالح و مقتضیات کو حد درجے پورا کرنے والی ہو۔میرے نزدیک یہ ایک پختہ رائے ہے۔‘‘[1] اس فکر کے اثرات مصر کے قانون میں کافی نمایاں ہیں۔ بعض اوقات تو ایسے قوانین بھی وضع کیے گئے جو مذاہب اربعہ کے مفتی بہ اقوال کے خلاف تھے۔استاذ مصطفی الزرقاء رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’پھر 1929ء میں حکومت مصر نے مختلف اجتہادات ، مثلاً ان سے بھی کہ جو مذاہب اربعہ میں شامل نہیں ہیں، سے استفادہ کرنے کے لیے ایک وسیع طریقہ کار طے کیا۔پس حکومت مصر نے قانون 25 صادر کیا، جس کے مطابق اکثر حالات میں معلق طلاق کو لغو قرار دیا۔اسی طرح اس قانون میں ایک ہی لفظ کے ساتھ تین یا دوطلاقوں کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے اور ان کی شرعی دلیل پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی شمار کیا گیا۔یہ قانون شیخ الازہر کی رضامندی سے طے ہوئے ہیں تاکہ طلاق ثلاثہ اور معلق طلاق کی تکالیف سے نجات حاصل کی جائے جس کا ارتکاب عموماًجاہل اور نادان مرد حضرات جھگڑے اور شدید غصے کی حالت میں کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ سنت طلاق اور اس کے بنیادی مقاصد کی مشروع حدود کو پھلانگ جاتے ہیں اور بعد میں اس مصیبت سے نکلنے کے لیے مختلف قسم کے حیلے اور گھٹیا ذرائع تلاش کرتے ہیں، جیسا کہ اہل علم ان وسائل و ذرائع سے آگاہ ہیں۔ ‘‘ [2] اسی طرح1931ء میں بھی بعض ایسے جزوی قوانین جاری ہوئے جو مذہب حنفی کے مطابق نہ تھے جیسا کہ 1931ء میں شرعی عدالتوں کی تنظیم کے لیے قانون 78 جاری ہوا۔ [3] 1936ء ہی میں حکومت کی طرف سے علما کی ایسی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو متنوع مذاہب اسلامیہ کی روشنی میں مصر کے مختلف قوانین کی ترتیب و تدوین کا منصوبہ سنبھالے۔ استاذ محمد سلام مدکور لکھتے ہیں: ’’پھر حکومت مصر نے ایک فقہی مذہب کی پابندیوں سے نکلنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا اور 9دسمبر 1936ء میں وفاقی کابینہ نے وزارت عدل و انصاف کی ایک سفارش، کہ جس میں اس مسئلے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی تھی ‘ کی حمایت کی۔اس تجویزمیں یہ تھاکہ یہ کمیٹی ایک ایسے قانونی منصوبے کا آغاز کرے گی کہ جس کے ذریعے عائلی قوانین سے متعلقہ مسائل‘ اوقاف‘ وراثت اور وصیت وغیرہ کے بارے میں قانون سازی کی جائے گی۔یہ قانون سازی صرف ایک فقہی مذہب کے دائرے میں رہ کر نہیں ہو گی بلکہ کمیٹی کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ جمیع فقہاء کے فتاوی اورخصوصاً ان آراء سے استفادہ کرے جو لوگوں کی مصالح اورخارج میں موجود [1] عبد الرحمن بن أحمد، الدكتور، تقنین الأحکام الشرعیة بین المانعین والمجیزین: ص5، المكتبة الشاملة [2] عامر بن عىسىٰ اللهو، حرکة تقنین الفقه الإسلامی: ص4، المكتبة الشاملة، المكة المكرمة [3] تقنین الأحکام الشرعیة بین المانعین والمجیزین: ص5 [4] حرکة تقنین الفقه الإسلامی:ص4 [5] الحطاب،محمد بن عبد الرحمن، مواهب الجلیل شرح مختصر الخلیل، باب الأقضیة: 8/79۔80، دار عالم الكتب، 1423ھ