کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 918
دیگر قراء حضرات ہیں ۔مجلہ’ رشد‘ نے صحابہ کرام سے لے کر اب تک علوم قراءات اور اس کے متعلقات کا اِحاطہ فرماکر بلا مبالغہ نہ صرف عظیم خدمت سر انجام دی ہے بلکہ میرے علم وآگہی کے مطابق مجلہ کے مضمون نگاروں نے فن تجوید کا پورا احاطہ کیا ہے۔ اس طرح یہ عظیم مجلہ آئندہ نسلوں کے لئے گراں قدر سرمایہ اور ان کی رشد کے لئے مینار ثابت ہو گا۔ اس میں الشیخ حافظ عبد الرحمن مدنی اور ان کے لائق ترین صاحبزادے حافظ حسن مدنی اور قاری حمزہ مدنی اور ان کے رفقاء کار زبردست خراج تحسین کے لائق ہیں ۔ جزاہم اللّٰہ خیرا آخر میں فن تجوید کے وقار اور فروغ کے لئے تین گزارشات کرناچاہتا ہوں : ۱۔ فارغ التحصیل قراء حضرت کی اخلاقی اور علمی تربیت کرنے کے ساتھ نصاب میں قرآن مجید کا ترجمہ اورمشکوٰۃ المصابیح کو لازم قرار دیا جائے تاکہ قراء حضرات دین کی بنیادی تعلیمات سے ہمکنار ہو سکیں ۔ ۲۔ قراء کرام کے لئے مشاہرے کی طرف خصوصی توجہ کی جائے، کیونکہ ہماری جماعت میں سب سے زیادہ انہی کا استحصال کیا جار ہا ہے۔حالانکہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں انہیں بہترین افراد قرار دیا ہے ۔بہترین لوگوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنا بہترین لوگوں کا وطیرہ ہے اور ہونا چاہیے۔ کیا مدارس کے مہتمم اور ذمہ دار حضرات ایسا کرنے کے لئے تیار ہیں ؟ ۳۔ رشد کے ایڈیٹر اوراحباب کار سے میری گذارش ہے کہ رشد کے دوسرے حصہ میں مضامین کو سہل اور عام فہم بنایا جائے۔ روایت حفص کے بارے میں کچھ نہ کچھ سدھ بودھ ہونے کے باوجود میں نے رشد کے بعض مضامین کو سمجھنے میں کافی دقت محسوس کی ہے۔ بے شک ہر فن کی اِصطلاحات مخصوص الفاظ اور تلفظ رکھتی ہیں ، لیکن ان کو سہل اور آسان بنانابھی اہل علم کا کام ہے۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ رشد کے ساتھیوں کو مزید علمی کام کرنے کی توفیق اور اہل علم کو ان کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی ہمت عطاء فرمائے۔ میاں محمد جمیل مدیر ابو ہریرہ اکیڈمی،لاہور ٭٭٭ علوم وفنون کی بے شمار اَقسام ہیں جن کا اِحاطہ کرنا کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے البتہ کسی خاص علم میں مہارت حاصل کرنا ممکن ہوسکتاہے۔ قرآن مجید کواللہ تعالیٰ نے سات حروف(قراء ات) پرنازل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہی سات حروف پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے حتی کہ عہد عثمانی میں جب فتوحات کاسلسلہ شروع ہوا اور اسلامی مملکت دور دور تک پھیل گئی تواس وقت قراءات میں اختلاف سامنے آناشروع ہوا۔ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے اس اختلاف کے سدباب کے لئے سرکاری طور پر قرآن مجید کولغت قریش کے رسم کے مطابق لکھوایا ،کیونکہ ابتداء میں قرآن مجید لغت قریش میں ہی نازل ہوا تھا۔ لغت قریش کونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کی وجہ سے دیگر لغات پر ترجیح دی گئی۔ اس قرآن مجید کی متعدد نقول تیارکروائی گئیں ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تصدیق وموافقت کے بعد تمام علاقوں میں ایک ایک نقل بھیج دی گئی اورسرکاری طور پر حکم دیا گیا کہ اب وہ انہی مصاحف کے