کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 912
اور سکالرز اور مفکرین کے لیے یہ ایک عظیم علمی اور تحقیقی دستاویز ثابت ہوگی۔ سید مودودی انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ اور اَساتذہ نے اس سے کماحقہ استفادہ کیا اور اسے مستقل طور پر انسٹی ٹیوٹ کی وکیل لائبریری کی زینت بنا دیا گیا۔ ماہنامہ ’رُشد‘ قراءت نمبر(حصہ اوّل )کے متوبات میں مندرجہ ذیل عنوانات شامل کئے گئے: ۱۔ مدرسہ دینیہ میں قراءات کی ضرورت ۲۔ اَحادیث مبارکہ میں وارد شدہ قراء ت ۳۔ قرآن کریم کے متنوع لہجات اور ان کی صحبت ۴۔ اَحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ثبوت قراء ت ۵۔ برصغیر پاک و ہند میں تجوید قراءت کا آغاز ۶۔ متعدد قراءت کو ثابت کرنے والی جملہ اَحادیث ۷۔ سبعہ احراف سے مراد قراءت عشرہ کی حجت ۸۔ قراءت کے ساتھ حروف ۹۔ قراءت عشرہ کی اسانید اور ان کاتواتر ۱۰۔ مروجہ قرآنیہ اور مطبوع مصاحف کا جائزہ ۱۱۔ تعارف علم قراءت اہم سوالات و جوابات ۱۲۔ اختلافِ قراءت قرآنیہ اور مستشرقین ۱۳۔ قراءت قرانیہ کا مقام اور مستشرقین کے شبہات ۱۴۔ منکر قراءت علوم تمنا عمادی کے نظریات کا جائزہ ۱۵۔ قرآن اور قراءت قرآنیہ کے ثابت ہونے کا ذریعہ ۱۶۔ قراءت قرآنیہ کے بارے میں اصلاحی اور غامدی مؤقف ۱۷۔ مصحف مدینہ کی اہمیت اور تعارف ۱۸۔ اشاریہ برموضوع علم تجوید قراء ت یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ علم تجوید قراءت کو قرآنی علوم وفنون کے گلدستے میں گل سرسبز کی حیثیت حاصل ہے۔ جس کی مہک سے پورا گلستان معطر ہے اور جس کی بدولت فہم قرآن اور اس کے معنی و مفاہم کی تفہیم میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ ماہرین لسانیات کی نظر میں قرآنی آیات اور ان کے الفاظ و کلمات کی صحیح ادائیگی اور حسن ترتیل و تجوید اس کے اندر پوشیدہ اسرار و رموز کو عیاں کرتے ہیں اور جہاں سامعین پروجد و کیف کا عالم طاری ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی بالیدگی اور روحانی پرمژدگی کو دور کرنے کا سامان فراہم کیا جاتاہے۔ قراءت صحیحہ کے بارے میں فقہی موشگافیوں میں پڑنے کی بجائے انہیں خالصتاً فنی علوم تصور کرتے ہوئے اور ’’ورتلاً قرآن و ترتیلاً‘‘ کی روشنی میں انہیں اختیار کرنااور اس کی تطہیر و تحسین بلاشبہ قرآن حکیم کی عظیم فرصت ہے۔ اس اعتبار سے اس شمار ے میں پیش کردہ تمام مضامین اساس اہمیت کے حامل ہیں اور تلاش کاران محققین اور عام قارئین کے لیے بے شمار فوائد کے حامل ہیں ۔ تاہم ان میں سے چند ایک مختارات کا تجزیہ درج ذیل ہے: