کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 910
ومتجددین کی تلبیسات اوران کے جواب اور تجوید وقراءات کااشاریہ اہم چیزیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کوقبول فرمائیں اورمسلمانوں کے لئے نافع بنائیں، والسلام۔ عبدالواحد دارالافتاء جامعہ مدنیہ لاہور ٭٭٭ محترم جناب مدیراعلیٰ صاحب ماہنامہ ’رشد‘لاہور تسلیمات وآداب ! جناب کاارسال کردہ مجلہ رشدکا قراءات نمبر( حصہ اوّل) موصول ہوا ۔ قراءات کے فن پر اورعلوم القرآن کے ایک اہم علم پریہ ضخیم اورگراں قدر تحقیقی مجلد اسلامی لائبریری میں ایک خوبصورت اضافہ اوراہل علم وصاحبان ذوق کی تسکین کاروح افزاء اہتمام ہے۔ اس تحقیقی کاوش سے قراءات پرمعترض ہونے والوں کے اعتراضات کاعلمی جواب آگیاہے، لیکن منکرین کوقائل کرناامر دشوار ہے کہ عناد کی آنکھیں ہوتی ہیں نہ دماغ﴿ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٍ لَّایُبْصِرُوْنَ بِہَا۔۔۔۔﴾ تاہم محققین کو اللہ رب العزت کی بارگاہ سے اجر خدمت قرآن وعلوم القرآن ان شاء اللہ ضرور ملے گا ۔کراچی میں مفتی سید شاہ حسین گرد یزی نے اس موضوع پر خاصا کام کیا ہے جلد دوم کے حوالہ سے ان سے رجوع کیا جائے توخالی از فائدہ نہ ہوگا۔ مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور کے اراکین واحباب کی خدمت میں تسلیمات ۔ نوراحمد شاہتاز (ڈائریکٹر )شیخ زاید اسلامک سینٹر، یونیورسٹی آف کراچی ٭٭٭ ماہنامہ رشد لا ہور کا ’قر اء ات نمبر‘ نظر سے گزرا ۔ ہمارا عمومی مشاہرہ یہ ہے کہ کالجوں ،یونیورسٹیوں کے وہ جرائد جنہیں طلبہ اپنے اَساتذہ کی رہنمائی میں مرتب کرتے ہیں عموماً معیاری اور تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ ان کا اجراء اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ تحریر وتدوین کی مشق کا موقع ملے جائے اور عملی کام کر کے اس شعبے میں ان کی صلاحیتیں نکھر جائیں ۔ گستاخی معاف! دینی جامعات کے ترجمان جرائد کا حال خاصہ پتلا ہے چہ جائیکہ کسی دینی جامعہ کے ایسے جریدے کی وقیع علمی حیثیت مشاہدے میں آئے جو اصلا طلبہ مجلہ ہو۔ اس لحاظ سے ماہنامہ رشد کازیر نظر شمارہ ایک استثنائی مثال ہے جو وقیع علمی وتحقیقی حیثیت کا حامل ہے جس کے لئے اس کی مجلس ادارات کے سارے ارکان خصوصاً اس کے نوجوان مدیر قاری حمزہ مدنی ستائش او رمبارکباد کے مستحق ہیں اللہم زد فزد۔ مزید خوشی کی بات یہ کہ یہ قراءات جیسے ادق موضوع پرجریدے کاحصہ اوّل ہے اور مرتبین اس کے دو مزید حصے مستقبل قریب میں لانا چاہتے ہیں ۔ ماہنامہ’ رشد‘ کے اس شمارے کے مطالعے سے اس کے مضامین کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرف منکرین قراءات اورمستشرقین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا گیا ہے تو دوسر ی طرف قراءات کے اثبات او ران کے شرعی دلائل اورعقلی استدلالات وفوائد کابھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی عمدہ منہانے اسلوب میں مترد دین