کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 90
سے جمع قرآن کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان پر اعتماد کیا اورعثمان رضی اللہ عنہ نے بھی مصاحف کی کتابت انہی کے سپرد کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حافظ ہونے کے باوجود مصحف صدیقی سے نقول تیارکرنے کا حکم دیا کیونکہ مصحف صدیقی کا اعتماد ان مکتوبات متفرقہ پر تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھے گئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف صدیقی کواصل بناکر قرآن میں قیل و قال کادروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ سوال:اگر کوئی یہ کہے کہ ممکن ہے مصاحف میں کچھ زائد لکھاگیا ہو یاقرآن کاکچھ حصہ لکھنے سے رہ گیاہو؟ جواب:اس کاجواب یہ ہے کہ اس کا یہ خیال باطل ہے، کیونکہ صحابہ نے جو کچھ لکھا اس کی صحت پر مصاحف دلالت کرتے ہیں ۔ مزید یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زید رضی اللہ عنہ کومنتخب کیااور ان کی سپردگی میں مصاحف کی کتابت کروائی جیساکہ پہلے گزر چکا ہے کہ شیخین نے بھی کتابت مصاحف میں انہی(زید رضی اللہ عنہ ) پر اعتماد کرتے ہوئے انہی کاانتخاب فرمایاتھا اور انہوں نے زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی مدد اور حصول عدالت کے لیے ایک جماعت مقرر کردی اور یہ جماعت قریشیوں پرمشتمل تھی کیونکہ قرآن اولاً ان کی لغت کے مطابق نازل ہوا تھا اور وہ اپنے ضبط کی خاص شہرت کی وجہ سے متعین کئے گئے۔ چنانچہ انہوں نے احرف سبعہ پر مشتمل پوراقرآن جو ۱۱۴ سورتوں پرمشتمل تھااورجس کی ابتداء الحمد سے اور انتہا الناس پر ہوتی ہے، کو جمع کیا۔ انہوں نے ہر ہرسورہ کے شروع میں ماسوائے سورہ توبہ کے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم لکھی۔ سورہ التوبۃ کی بسم اللّٰہ والی جگہ کومصحف صدیقی رضی اللہ عنہ جس کا اعتماد عہد نبوی کے مکتوبات متفرقہ پرتھا، کی اقتداء کرتے ہوئے خالی چھوڑا گیا اور اسی طرح انہوں نے سورتوں کے نام، نستعین،تعداد، اجزاء و احزاب اور آیات کے نشانات سے بھی ان مصاحف کو مصحف صدیقی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں خالی رکھا اور اسی طرح انہوں نے ہراس چیز کو جو قرآن نہ تھی ،سے ان کو خالی رکھا۔حالانکہ صحابہ میں سے بعض اپنے مصاحف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسموعہ تفسیری کلمات بھی لکھ لیا کرتے تھے۔ امام جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’بسااوقات صحابہ کرام اپنے مصاحف میں تبیین و وضاحت کی خاطر تفسیری کلمات بھی لکھ لیا کرتے تھے کیونکہ وہ باخبر تھے اور قرآن و غیر قرآن کے التباس کا انہیں اندیشہ نہ تھا اور بعض لوگ تو قرآنی کلمات کے ساتھ ان تفسیری کلمات کو ملا کر لکھ لیاکرتے تھے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس عمل کو ناپسند کرتے اور لوگوں کو اس بات سے روکتے تھے چنانچہ مسروق سے مروی ہے کہ وہ(ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) قراءۃ میں تفسیر کوناپسند کرتے تھے اور مسروق کے علاوہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیاگیا ہے کہ : قرآن مجید کو تفسیری کلمات وغیرہ سے خالی رکھو اور غیر قرآن کو قرآن کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔‘‘ مصاحف عثمانیہ کی بابت قرآن مجید کن قراء توں پر مشتمل ہے۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرآن مجید کا بعض حصہ عرضۂ اَخیرہ میں منسوخ ہوا۔ اس بارے میں کئی ایک صحابہ کے اقوال و آثار موجود ہیں ۔