کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 769
بھی کی گئی۔ اسی طرح سنت کی حفاظت بھی صدری اور کتابی دونوں طرح سے ہوتی رہی ہے۔ قرآن مجید کی سب سے پہلی کتابی حفاظت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس طرح ہوئی کہ مکمل قرآن مجید کو ایک جگہ محفوظ کیا گیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکمل قرآن مجید کتابی صورت میں موجود نہیں تھا، بلکہ وہ ٹھیکریوں ، چھلکوں اور ہڈیوں پر لکھا جاتا تھا، ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے محفوظ کرنے کا کام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے کیا اور چونکہ یہ صفحات الگ الگ تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب ان کو اکٹھا کیا تو انہوں نے اس کا ایک مصحف تیار کر لیا، چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ کام کو’صحف ابی بکر‘ بولتے ہیں ، جبکہ جمع عثمانی میں قرآن کریم چونکہ ایک جلد میں تھا، چنانچہ اسے ’مصحف‘ کا نام دیا گیا۔ اس لیے ترتیب قرآنی جس میں ’سورتوں ‘ کی ترتیب بھی شامل ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی ، جبکہ سورتوں کی اندرونی ترتیب یعنی نظم آیات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مکمل ہوچکی تھی اور تلاوت کی صورت میں ﴿بَلْ ہُوَ اٰیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ﴾ میں موجود تھی۔ آج تک قرآن مجید کی اصل حفاظت صدری ہی ہورہی ہے اور تلفظ کی صورت میں قرآن مجید موجود ہے، جہاں تک اس کی کتابی حفاظت ہے وہ اضافی طور پر ساتھ چل رہی ہے اور یہ کام اسی طرح آگے بڑھتا رہے گا۔ ان شاء اللہ قرآن مجید کی چار روایتیں تو متداول صورت میں موجود ہیں اور وہ کتابت کی صورت میں طبع ہورہی ہیں ۔ کتابی شکل میں قرآن مجید کی پہلی حفاظت تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی۔ چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سبعۃ أحرف کو مکمل جمع کر لیاگیا تھا، اسی لیے انہیں جامع قرآن کہا جاتا ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن مجید کا نقش سب سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محفوظ کیا اور محفوظ کرنے کے بعد یہ اہتمام بھی شروع ہوا کہ اس کا رسم الخط کیا ہو؟ اس بارے میں آپ یاد رکھیں کہ یہ قریش کا رسم الخط تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس یہی مسئلہ درپیش ہوا کہ اگر قرآن مجید کو لکھنے میں اختلاف ہوجائے تو پھر کس رسم الخط کو اصل بنایا جائے اور باقی رسم الخط تابع ہوجائیں ، توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا آپس میں اختلاف ہوجائے تو’’فاکتبوہ بلغۃ قریش‘‘ ’’قریش کی لغت میں لکھو۔‘‘حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ قرآن مجید کا ابتدائی نزول چونکہ اصلا لغت قریش میں ہواتھا، چنانچہ کتابت میں بھی وہی لغت اصل ہونی چاہیے۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اصل رسم الخط قریشی قرار دیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قریش کی لغت کے علاوہ باقی ساری لغتیں منسوخ ہوگئیں ، جیسا کہ بعض لوگوں کو مغالطہ ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اندر سبعۃ أحرف کی صورت میں باقی لغات بھی موجود ہیں ، لیکن رسم الخط کے اندر اصل کتابت قریش کے رسم الخط کو دی کو دی گئی ہے اور صرف قریش کے رسم الخط کو ہی نہیں ، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو کتابت تھی اس کو سامنے رکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتابت کرنے والے بہت سے لوگ تھے اور ان میں سے ایک جلیل القدر صحابی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی کمیٹی کے اندر سرکردہ رکن کی حیثیت سے شامل رہے ہیں ۔ ان کوانصاری ہونے کے باوجود خاص طور پر تلقین کی گئی کہ قریشی رسم الخط کا اہتمام کریں ۔ میں یہاں ایک نقطہ واضح کیے دیتا ہوں ، جس میں بعض لوگوں کااختلاف ہوتا ہے، تاکہ اس کی کوئی وجہ آپ کے