کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 656
نحویہ و صرفیہ اِس غرض سے وضع کر دئیے گئے تاکہ نظامِ کتابت اور تعلیمی سلسلہ میں کسی غلطی یا شبہ کا احتمال باقی نہ رہے۔ قواعدِ ہجاء ، قواعدِ املاء ، علم الخط القیاسی و الاصطلاحی یہ وہ سب نام تھے جو اِن قواعد کے لیے وضع کیے گئے ۔ لوگوں نے لکھنے میں پرانے ہجاءِ کلمات کو رفتہ رفتہ ترک کر دیا لیکن مصاحف میں موجود الفاظ باتمامہٖ اپنی اُسی ہیئت و صورت میں رہے جس میں اُنہیں عہد ِعثمان میں لکھا گیا تھا۔ اس پر ابن درستویہ کی عبارت واضح طور پردال ہے جو انہوں نے اپنی تصنیف الکتاب کے مقدمہ میں درج کی ہے۔ فرماتے ہیں : ’’ووجدنا کتاب اللّٰہ جل ذکرہ لا یقاس ھجاؤہ،ولا یخالف خطہ،ولکنہ یتلقی بالقبول علی ما أودع المصحف، ورأینا العروض أنما ھو إحصاء ما لفظ بہ من ساکن ومتحرک،ولیس یلحقہ غلط،ولا فیہ اختلاف بین أحد‘‘(۴۳) مذاہب ِاربعہ میں رسمِ عثمانی کا التزام مذاہب ِاربعہ کے تمام فقہاء نے مصحف کی کتابت اور طباعت میں رسمِ عثمانی کے التزام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس کی مخالفت کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔ اِس پر علماء کا اِجماع منقول ہے کہ رسمِ عثمانی کی مخالفت جائز نہیں : ’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماءِ الأئمۃ‘‘(۴۴)۔ علامہ الحداد رحمہ اللہ کے بقول ہمیشہ علماء کا رسمِ عثمانی پر اجماع رہا ہے اورانہوں نے اِس کی مخالفت کو اجماع سے روگردانی تصور کیاہے۔ ’’وما دام قد انعقد الإجماع علی تلک الرسوم فلا یجوز العدول عنہا ألی غیرہا،إذ لا یجوز خرق الإجماع بوجہ‘‘(۴۵) ڈاکٹر لبیب السعید رحمہ اللہ نے رسمِ عثمانی کے التزام پر فقہاء کا اجماع نقل کیا ہے : ’’والفقہاء مجمعون،أو کالمجمعین علی ہذا الرسم‘‘۔(۴۶) علامہ جعبری رحمہ اللہ نے روضۃ الطرائف فی رسم المصاحف فی شرح العقیلہ میں ائمہ اربعہ کا یہی موقف نقل کیا ہے۔“(۴۷) ٭ امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک وقت گزرنے کے ساتھ کتابت مصحف میں جب رسمِ عثمانی سے مختلف صورِ کلمات کا دخول شروع ہوا تو امام مالک رحمہ اللہ(۹۵ھ تا۱۷۹ھ) سے استفتاء ہوا ۔ جس کو علامہ دانی رحمہ اللہ نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: ’’....فقیل لہ: أریت من استکتب مصحفًا الیوم أتری أن یکتب علیٰ ما أحدث الناس من الھجاء الیوم ؟ فقال: لا أری ذلک،ولکن یکتب علی الکتبۃ الاولیٰ‘‘(۴۸) یعنی امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کہ کیا کوئی شخص لوگوں میں موجودہ مروجہ ہجاء پر مصحف کی کتابت کر سکتا ہے تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ اُسے طریقۂ سلف پر چلنا چاہئے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے اِ س قول کے متصل بعد علامہ دانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے اِس قول سے کسی نے اختلاف نہیں کیا:’’ولا مخالف لہ فی ذلک من علماء الامۃ‘‘۔ (۴۹) امام سخاوی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر’’والذی ذہب إلیہ مالک ہو الحق‘‘ کے الفاظ سے تبصرہ