کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 647
حافظ محمد سمیع اللہ فراز ٭ رسمِ عثمانی کا التزام اور اس بارے میں علماء کی آراء مقالہ نگار حافظ سمیع اللہ فراز حفظہ اللہ نے چند سال قبل شیخ زید اسلامک سنٹر، جامعہ پنجاب سے علوم ِاسلامیہ میں پروفیسرڈاکٹر حافظ عبداللہ حفظہ اللہ (شیخ زید اسلامک سنٹر، پنجاب یونیورسٹی، لاہور) کے زیرنگرانی ایم فل کی ڈگری حاصل کی ہے۔ موصوف کے مقالہ کا عنوان تھا: ’’رسم عثمانی اور اس کی شرعی حیثیت‘‘۔ مقالہ مذکور کے بہترین مقالہ جات کی فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے اسلامک سنٹر نے بعد ازاں اسے کتابی صورت میں طبع کروایا ہے۔ زیرنظر مضمون اسی مقالہ کی ایک فصل کے انتخاب پر مشتمل ہے، جسے فاضل مقالہ نگار نے ماہنامہ رُشد قراءات نمبر کے قارئین کیلئے ارسال فرمایا ہے۔ [ادارہ] کلماتِ قرآنیہ کاایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اورسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے ایسے کلمات یا الفاظِ قرآنی میں قرآن کی کتابت کروائی۔ بایں وجہ اِن کو رسمِ عثمانی کہاجاتا ہے۔ کیا رسمِ عثمانی اور رسمِ قیاسی کے مابین فرق و اختلاف باقی رہنا چاہئے؟یامصاحف کی کتابت وطباعت میں رسمِ عثمانی کے قواعد وضوابط کی پابندی واجب ہے ؟یہ وہ سوال ہیں جس نے علماء ِرسم کے علاوہ مورخین کے زاویۂ فکر کو بنیادی طور پر دو طبقات میں تقسیم کیاہے،کیونکہ،لغتِ عربی اور اس کے رسم الخط سمیت، دنیاکی ہر زبان اپنے تطوّر و ارتقاء کا سفر جاری رکھتے ہوئے اپنے اندر کئی تبدیلیوں کی متحمل رہتی ہے اور لازمی نتیجہ کے طورپر اس کا رسم الخط بھی جدت ونشو کا متقاضی رہتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں رسمِ قرآنی یا رسمِ عثمانی نے اِس عام مروّجہ ’اصولِ نشو ‘کی قبولیت سے ہمیشہ توقف کیا ہے۔ قرآنی رسم کی اِسی قدامت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مکتبۂ فکر کے نزدیک رسمِ مذکور میں چونکہ کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں چنانچہ طباعت ِمصاحف میں اِسی کی پابندی لازمی ہے۔جب کہ اِس کے مقابلہ میں فکر کا ایک زاویہ یہ بھی تھا کہ مرورِ زمان کے ساتھ زبانو ں اور ان کے رسوم الخطوط کی تبدیلی کالوگوں کے مزاج وفہم پر اثر انداز ہونا ایک لازمی امر ہے لہٰذا رسمِ قرآنی کو لوگوں کی آسانی اور مزاج کے موافق بنانے کیلئے قدیم رسمِ قرآنی میں تبدیلی کی گنجائش موجود رکھتے ہوئے رسمِ عثمانی کا التزام ضروری نہیں ۔اِسی سوچ کے حامل بعض افراد نے قدرے اعتدال کامظاہرہ کرتے ہوئے اِس کی خلاف ورزی کو’ ضروری‘ کی بجائے صرف ’جائز ‘قرار دیا ۔ گویا رسمِ عثمانی کے التزام و عدمِ التزام کے بارے میں تین مواقف سامنے آئے: [1] خطیب مرکزی مسجد DHA،لاہور ، لیکچرار فاسٹ یونیورسٹی ،لاہور