کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 569
٭ جیفری نے مروّجہ قراءات کو ائمہ قراء کا انتحاب واختیار قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کی اصلیت منقولی نہیں بلکہ اجتہادی واختیاری ہے۔قراءات کے ارکانِ ثلاثہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نے دوسری شرط ’صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہونا‘ذکر کیا ہے حالانکہ علماءِ اسلام میں سے کسی نے یہ رکن بیان نہیں کیا بلکہ سند کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ومربوط ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ ٭ ابن مجاہد رحمہ اللہ کے سات قراءات منتخب کرنے کی بنیاد جیفری نے حدیث سبعۂ احرف قرار دی ہے۔(۱۱۸)حالانکہ سات قراءات کا یہ اختیار حدیث سبعۂ احرف کی بناء پر نہیں اور نہ ہی ابن مجاہد رحمہ اللہ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے۔بلکہ یہ ایک اتفاق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے مزید تین قراءات کو بھی مشہور قرار دیا اوران کو بھی سبعہ احرف پر مبنی قرار دیا ۔پھر یہ اختیار کسی قرعہ یا ذاتی خواہش پر نہیں تھا بلکہ کثرتِ روایت اور تدریسِ قرآن میں ممارست وتجربہ اورمہارت کی بنیاد پر تھا۔چنانچہ محقق ابن الجزری رحمہ اللہ (م۸۳۳ھ)لکھتے ہیں : ’’إضافۃ الحروف والقراءات إلی أئمۃ القراءۃ ورواتہم المراد بہا أن ذلک القاری وذلک الامام اختار القراءۃ بذلک الوجہ من اللغۃ حسب ما قراء بہ فآثرہ علی غیرہ وداوم علیہ ولزمہ حتی اشتہر وعرف بہ وقصد فیہ وأخذ عنہ فلذلک أضیف إلیہ دون غیرہ من القراء وہذا الاضافۃ اختیار ودوام ولزوم لا إضافۃ اختراع ورایٍ واجتہادٍ‘‘(۱۱۹) غرض ائمہ قراء کی طرف یہ انتساب ان کے ہمیشگی اختیار اورالتزام کی وجہ سے ہے نہ کہ اختراع ورائے کی بنیادپر۔ مثلاً ابن البازش رحمہ اللہ نے امام نافع رحمہ اللہ کے مطابق لکھا ہے کہ انہوں نے جس قراءت کا لزوم کیا وہ اہلِ مدینہ کے لیے مرجع بن گئی اور ان کے اختیار کی طرف لوگوں نے رجوع کیا۔(۱۲۰)یہی وجہ ہے کہ قراءات کے اختیار کے بھی چند قواعد ہیں جن کو امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک قاعدہ ’کثرت‘ ہے یعنی کسی قراءت کو کثرتِ استعمال کی وجہ سے بھی بعض قراء اختیار کر لیتے ہیں ۔(۱۲۱)جن قراء نے قراءات کو اختیار کیا انہوں نے اس کو روایت بروایت صحابہ رضی اللہ عنہم اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا ۔ مکی بن ابی طالب رحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہے۔(۱۲۲) ڈاکٹر محمد الحبش نے لکھا ہے کہ ان قراءات میں ائمہ کا کوئی اجتہاد نہیں اور نہ ان کو نص میں کسی قسم کے تصرف اورتحکّم کا کوئی اختیارحاصل ہے،ان کا کام صرف روایت کی صحت، ضبط اوراس کی توثیق کی حد تک محدود ہے۔(۱۲۳) ٭ جیفری نے قراءاتِ حفص کی ترجیح وتعمیم اور اس میں نافع رحمہ اللہ کی روایت کومستحسن قراردینے میں بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ترجیح یا استحسان دراصل اختیاری ہے اورقراءات کے مابین بھی تفاوت واختلاف پایا جاتا ہے۔(۱۲۴)حالانکہ متواتر قراءات میں ترجیح نہیں ہو سکتی ،کیونکہ تمام قراءات ثابت اورمرتبہ میں ایک دوسری کے برابر ہیں اسی طرح نافع رحمہ اللہ کی روایت شہرت اورکثرت ِممارست ومدارست کی وجہ سے اختیار کی گئی ہے۔ استحساناً ایسا نہیں کیاگیا۔(۱۲۵) ٭ اس مقدمہ کے آخرمیں مستشرق موصوف نے پھر اسی بات کا اِعادہ کیا ہے جو مقدمہ کے شروع میں کیا تھا کہ قرآنی قراءات میں ارتقاء واقع ہوا ہے ۔ اس کے نزدیک آغاز میں مصاحف قدیمہ کا رواج تھا ،پھر مصاحفِ عثمانیہ مختلف شہروں میں رائج ہوئے بعد ازاں قراءات کو اختیار کرنے میں آزادی کا رجحان پیدا ہوا ،پھر سبعہ یا عشرہ کا تسلط ہوا ، پھر روایاتِ عشرہ کو اختیار کیا گیااورآخر میں قراءت حفص عام شہروں میں رائج ہوگئی۔(۱۲۶)قراءاتِ