کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 565
تعددِ مصاحف اور ان کی حقیقت ....جمہور علماء کا موقف صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذاتی مصاحف کے وجود یا عدمِ وجود کے متعلق دو آراء پائی جاتی ہیں :ایک یہ کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے خاص طور پر اپنے لیے کچھ اَوراق، قرآنی آیات اور اس کی قراءات وتفسیر پر مشتمل رکھے ہوئے تھے۔ جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً ابن سیرین رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’لمّا مات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آلیت إلا آخذ علیّ ردائی إلا لصلاۃ الجمعۃ حتی أجمع القران فجمعتہ‘‘(۸۹) ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے قسم اٹھائی کہ میں سوائے نمازِ جمعہ کے اپنے اوپر چادر نہیں لوں گا یہاں تک میں قرآن کو جمع کردوں ، سو میں نے اس کو جمع کرلیا‘‘۔ یا عمومی طور پر بخاری کی اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف لکھوانے کے بعد ان مصاحف کے علاوہ ہر صحیفہ یا مصحف جلانے کا حکم ارشاد فرمایا۔(۹۰) دوسرا یہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا انفرادی طور پر جمع شدہ مواد ’مصحف‘ کا نام اختیار کر چکا تھاجبکہ درحقیقت وہ چند روایات ،اخبارِ آحاد یا شاذہ قراءات تھیں جو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بطورِ تفسیرِ قرآن ذکر کردیں جو بعد میں اپنی استنادی حیثیت سے قطع نظر لغت ، ادب اور قراءات کی کتابوں میں جگہ پاگئیں ۔ واضح رہے کہ ابن ابی داؤد رحمہ اللہ نے دس صحابہ رضی اللہ عنہم کے ناموں کا ذکر کیا ہے جن کو جیفری بعد میں ’مقابل نسخہ جات‘ کے حامل بناکر پیش کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ابن ابی داؤد رحمہ اللہ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان دس اصحاب رضی اللہ عنہم کے پاس تحریری شکل میں الگ الگ قرآن کے نسخے تھے۔ اسی طرح ابن ابی داؤد رحمہ اللہ ان حضرات کی جانب منسوب مختلف قراءات کو مصحف کے عنوان سے بیان کرتاہے اور ساتھ ہی وہ جَمَعَ القرآن کے الفاظ ان حضرات کے لیے بھی استعمال کرتا ہے جنہوں نے قرآن کریم یاد کررکھا تھا۔چنانچہ وہ لکھتا ہے : ’’فإنہ یقال للذی یحفظ القرآن قد جمع القرآن‘‘(۹۱) اسی طرح لفظ مصحف کو بطور حرف یا قراءت کے معانی میں بھی استعمال کیا ہے تاکہ اس کی ذکر کردہ مختلف قراءات کا کسی باقاعدہ تحریری نسخہ سے ماخوذ ہونے کا گمان نہ ہو۔(۹۲)اگرچہ جیفری بھی ان مصاحفِ صحابہ کی مستقل تحریری شکل کے عدمِ ثبوت کا قائل ہے تاہم اس کا میلان ان کو باقاعدہ مصحف کی صورت میں پیش کرنے کی طرف ہے جوکہ قطعی طور پر غیر تحقیقی اوربے بنیاد ہے۔ ٭ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ مصاحف ِصحابہ کے عنوان سے جن کتب کا تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے ان کی تعداد ابن ندیم رحمہ اللہ نے ۱۲شما رکی ہے ان میں قدیم ترین کتاب ابن عامر یحصبی رحمہ اللہ(م۱۱۸ھ)کی کتاب ’اختلاف مصاحف الشام والحجاز والعراق‘ہے۔(۹۳)ابن ابی داؤد رحمہ اللہ (م۳۱۶ھ)، ابن انباری رحمہ اللہ(م۳۲۸ھ) اور ابن اشتہ رحمہ اللہ(م۳۶۰ھ)کی کتبِ مصاحف کے سوا کسی اورکتاب نے اپنا نشان نہیں چھوڑا۔ مذکورہ تین کتابوں میں سے بھی مؤخر الذکر دونوں کتب ضائع ہو چکی ہیں ۔(۹۴) صرف ابن ابی داؤد رحمہ اللہ کی کتاب زمانہ کی دست بردسے محفوظ رہیں۔ مصحف ِعثمانی کے اتنے عرصہ بعد ان کتب کا رواج محض علمی ورثہ کے طور پر فنون کی وسعتوں کا ایک مظاہرہ ہے جس کا سند وروایت یا محکم ومحقق ذرائع سے کوئی واسطہ نہیں اور