کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 527
قنبل سے تکبیر و عدم تکبیر دونوں وجوہ نقل کی ہیں ۔ اسی طرح امام دانی رحمہ اللہ نے المفردات میں سیدنا قنبل رحمہ اللہ سے دو وجوہ نقل کی ہیں ۔ فرماتے ہیں : ’’میں نے امام قنبل رحمہ اللہ سے تکبیر ابن مجاہد رحمہ اللہ کے طریق سے نہیں پڑھی، یعنی کسی اور طریق سے پڑھی ہے۔‘‘ [النشر:۲/۴۱۷] اہل عراق کے بالمقابل جمہور اہل مغرب کے ہاں امام قنبل رحمہ اللہ کے لئے تکبیر نہیں ہے، جیساکہ علامہ دانی رحمہ اللہ کی التیسیرمیں ، امام ابوعبداللہ بن شریح رحمہ اللہ کی الکافی میں ، علامہ اسماعیل بن خلف رحمہ اللہ کی العنوان میں ، علامہ طاہر ابن غلبون رحمہ اللہ کی التذکرۃ میں ، امام ابو محمد مکی القیسی رحمہ اللہ کی التبصرۃ میں ، امام ابوعلی حسن بن خلف القیروانی رحمہ اللہ کی تلخیص العبارات میں ،امام ابوعبداللہ محمدبن سفیان القیروانی رحمہ اللہ کی الھادی میں اور علامہ ابوالطیب ابن غلبون رحمہ اللہ کی الارشاد میں یہی مکتوب ہے۔ یاد رہے کہ امام ابن کثیرمکی رحمہ اللہ کے علاوہ بعض دیگر قراء کرام یعنی امام ابوعمروبصری رحمہ اللہ کے راویٔ ثانی امام سوسی رحمہ اللہ سے اور امام ابوجعفر رحمہ اللہ کے راوی ابو عبد اللہ العمری رحمہ اللہ سے بھی تکبیر وارد ہوئی ہے، بلکہ تکبیر تقریبا تمام قراء سے بطریق طیبہ ہی ثابت ہے۔[فریدۃ الدہر:۲/۵] جیساکہ ابوالفضل الرازی رحمہ اللہ ، ابوالقاسم الھذلی رحمہ اللہ اور امام ابوالعلاء الھمدانی رحمہ اللہ ، امام ابن حبش الدنیوری رحمہ اللہ ، امام ابوالحسین الخبازی رحمہ اللہ ، امام ابو صفوان حمید الاعرج رحمہ اللہ ، امام ابن محیصن رحمہ اللہ اور امام ابن شنبوذ رحمہ اللہ سے مروی ہے۔ تکبیر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ثابت ہے، جیساکہ امام دانی رحمہ اللہ امام مجاہد رحمہ اللہ سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ ’’مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے تقریباً ۲۰ سے زائد مرتبہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر قرآن کریم ختم کیا اور وہ ہرمرتبہ مجھے ألم نشرح سے تکبیر کہنے کا حکم صادر کرتے۔‘‘[جامع البیان:۷۹۴] امام دانی رحمہ اللہ اپنی اسناد کے ساتھ حنظلہ بن ابی سفیان رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ حنظلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عکرمہ بن خالد المخزومی رحمہ اللہ پر قراءت کی۔ جب سورہ والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نیھیھا کہا۔ میں نے پوچھا کہ ھیھا کہنے سے آپ رحمہ اللہ کا کیا مقصود ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ اکبر کہو، کیونکہ میں نے اپنے مشائخ کو دیکھا ہے کہ جب وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ پر قراءت کرتے تو وہ ان کو سورہ والضحی سے لے کر آخر تک تکبیر کاحکم دیتے۔‘‘[جامع البیان:۷۹۴] امام دانی رحمہ اللہ اپنی اسناد کے ساتھ امام ابن کثیر مکی رحمہ اللہ کے ساتھی اور مقرءٔ مکہ شِبَل بن عباد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ شبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے امام ابن محیصن رحمہ اللہ اور امام ابن کثیر مکی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ جب وہ ألم نشرحپر پہنچتے توختم قرآن تک تکبیر کہتے اور فرماتے کہ ہم نے امام مجاہد رحمہ اللہ کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے۔‘‘[جامع البیان:۷۹۳] امام عبدالملک بن جریج رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ امام مجاہد رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ’’امام مجاہد رحمہ اللہ سورہ والضحیٰ سے لے کر سورہ الفاتحہ(۴) تک تکبیر کہتے تھے۔‘‘ [جامع البیان:۷۹۴]