کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 519
الأعمال أحبّ إلی اللّٰہ ....الخ ۲۔ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ کی تشریح قراء کے موافق ہے، جیسا کہ ابھی اوپر گذرا۔ ۳۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس کو قراءۃ کے ابواب میں روایت کیا ہے اوریہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے بھی ہاں یہی معنی مراد ہیں ۔ ۴۔ امام بیہقی رحمہ اللہ اور ان کے سوا ابوعبداللہ حلیمی رحمہ اللہ جیسے اَئمہ بھی اس کو قراءۃ ِقرآن کے باب میں لائے ہیں اور اس کوختم کے آداب میں شمار کیا ہے۔[عنایاتِ رحمانی:۳/۴۸۴، قرآن مجید کے ختم کا مستحب طریقہ :۳] ۵۔ حافظ ابوالشیخ اصفہانی رحمہ اللہ اس حدیث کو فضائل ِاعمال میں لائے ہیں اورمسند الفردوس میں بھی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں :((خیرالأعمالِ الحِلُّ وَالرِّحْلَۃُ افتتاحُ القُرآنِ وخَتْمُہٗ)) [عنایاتِ رحمانی:۳/۴۸۳] پس یہ دعویٰ ثابت ہوگیا کہ یہ تفسیر قراء کریم ہی سے منقول نہیں ہے، بلکہ دیگر کئی آئمہ بھی ان کے ہمراہ ہیں ۔ علامہ جعبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ امام ابوالحسن بن غلبون رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیاکہ کون سا عمل سب اعمال سے افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحالّ المرتحل۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! الحالّ المرتحل کیا ہے،؟ تو آپ نے جواب دیا کہ قرآن کریم کاشروع کرنا اور اس کا ختم کرنا۔ صاحب قرآن اس کے شروع سے آخر تک چلا جاتاہے اور آخر سے پھر شروع کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔‘‘ [شرح جعبری بحوالہ عنایات:ص۴۸۳] شیخ القراء قاری فتح محمد پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’امام اہوازی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت اسی طرح نقل فرمائی ہے، لیکن وہ درمیان میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کے الفاظ نہیں لائے۔اس حدیث کے صحیح ہونے کی تقدیر پراگر تفسیر متن میں شامل ہے، تب تو یہی مطلب متعین ہے ورنہ محتمل ہے اور حقیقت پر محمول ہونے اور ثُمَّ جہادٌ فِی سَبِیلِہٖ والی حدیث کے موافق ہونے کے سبب جہادوالی تفسیر راجح ہے اور ختم کی عرفی حقیقت کے سبب قاری والی تفسیر راجح ہے اور دونوں میں تفریق کی وجہ بھی یہی ہے۔‘‘ [1] [عنایاتِ رحمانی:۳/۴۸۳] شبہ نمبر۴۔ جو مضمون صحیح اَحادیث میں ضبط کیا گیاہے وہ اس کے ماسوا ہے، یعنی صحیح حدیثوں میں الحالّ المرتحل کے بجائے دوسرے اَعمال کو سب سے افضل بتایا ہے، چنانچہ یہ روایت اگر اپنی سند کے اعتبار سے صحیح ہو بھی تومعلول یا شاذ تو ضرور ہے۔ جن روایات سے اس روایت کا ٹکراؤ ہے وہ روایتیں یہ ہیں : [1] اُصولیوں کا اتفاق ہے کہ لفظ کی دلالت اس کے عموم پر ہوتی ہے، معروف قاعدہ ہے: العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب یعنی لفظ سے استدلال میں اعتبار عموم لفظ کا ہوگا، شانِ نزول یا خصوصی تشریح سے لفظ کو متعین کرنا صحیح نہیں۔ اس لئے مذکورہ ساری بحث اس اعتبار سے کوئی وزن نہیں رکھتی کہ دونوں معانی کو باہم متعارض خیال کرکے ایک دوسرے پر ترجیح دی جائے، خصوصاً جبکہ دین میں اس کی کوئی تصریح بھی موجود نہ ہو۔ الغرض چونکہ دونوں تفسیریں ایک دوسرے کے متناقض نہیں، لہٰذا دونوں ہی حدیث کا مصداق ہو سکتی ہیں۔ [مدیر]