کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 497
فرقا، فقال لی یا أبی أرسل إلیّ أن اقرأ القران علی حرف فرددت الیہ أن ہون علی أمّتی فرد إلی الثانیۃ اقرأہ علی حرفین فرددت إلیہ أن ہون علی أمتی فرد إلی الثالثۃ اقرأھ علی سبعۃ أحرف فلک بکل ردۃ رددتکہا مسألۃ تسألنیہا،فقلت اللہم اغفرہ لامتی اللہم اغفر لامتی واخرت الثالثۃ لیوم یرغب إلی الخلق کلہم حتی إبراہیم ’’سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، اس نے ایک ایسی قراءت پڑھی جس کو میں نہیں جانتا تھا۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے پہلے شخص کے خلاف پڑھا۔ جب ہم نے نماز مکمل کی تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص ایسی قراءت پڑھتا ہے جس کو میں نہیں جانتااور دوسرے نے پہلے کے بھی خلاف قراءت کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہی پڑھنے کا حکم فرمایا جب دونوں نے اسی طرح پڑھ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تحسین فرمائی۔ پس میرے دل میں تکذیب کا ایسا وسوسہ پیدا ہواکہ جو زمانہ جاہلیت میں بھی نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میری یہ حالت محسوس کی تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا کہ میں پسینے سے شرابور ہوگیا۔یوں محسوس ہوا گویا کہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں ۔ پھر آپ نے فرمایا اے اُبی رضی اللہ عنہ بے شک(اللہ کی طرف سے) مجھے پیغام بھیجا گیا کہ آپ قرآن مجید کو ایک حرف پر پڑھیں ۔میں نے عرض کیا کہ میری امت پر آسانی کی جائے۔ پھر دوسری دفعہ پیغام بھیجا گیا کہ آپ قرآن مجید کو دو حرفوں پرپڑھیں ۔ میں نے پھر عرض کیا کہ میری امت پر آسانی کی جائے تیسری بار یہ پیغام ملا آپ قرآن کو سات حرفوں پرپڑھیے۔اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے ہر تکرار کے بدلے ایک عطا ہے۔میں نے کہا اے اللہ! میری امت کو معاف کر دے۔ اے اللہ میری امت کو معاف کردے اور تیسری دعا کو میں نے اس دن کے لیے رکھا ہے جب ساری مخلوق میری طرف مائل ہوگی حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی۔‘‘ [صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب انزال القرآن علی سبعۃ أحرف] وضاحت: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو جن دو ساتھیوں کی قراءت پر اعتراض تھا وہ انہوں نے ان دونوں سے حالت نماز میں سنی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قراءت سننے کے بعد ان کے صحیح پڑھنے کی تصدیق فرما دی کہ تم لوگوں نے نماز میں جو بھی پڑھا ہے وہ قرآن ہی ہے لہٰذا قراءت درست ہونے کی وجہ سے ان کی نماز میں بھی درست تھی۔ اگر نماز میں مختلف قراءات پڑھنا کوئی ایسا مسئلہ ہوتا جس میں کراہت کی کوئی شکل ہوتی یا شرعاً کوئی قباحت ہوتی یا کسی فتنے کا اندیشہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضاحت فرما دیتے کہ آئندہ تم مختلف قراءات پڑھو، لیکن نماز میں نہ پڑھو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خود ہی تو مختلف احرف سکھا ئے تھے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نازل کردہ وحی کے بارے میں کس طرح کہہ سکتے تھے کہ اسے نمازوں سے دور رکھو۔ سیدنا عمروبن ہشام رضی اللہ عنہ کی طرح یہ حضرات بھی نمازوں میں مختلف قراءات قرآن سمجھ کر پڑھ رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دونوں کی تحسین کی فرمائی تو ان میں جو وقتی غلط فہمی پیدا ہوئی تھی وہ بھی ختم ہوگئی ۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی نمازوں کے درست ہونے کا مسئلہ بھی خود ہی سمجھ لیا، بصورت دیگر یا تو وہ نماز کو لوٹانے یا نہ لوٹانے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھ سکتے تھے۔ ایک مسئلہ اگر شریعت سے وضاحت کے ساتھ سمجھ آرہا ہو تو اس کے بعد دیگر اقوال وفتاویٰ کی ضرورت نہیں رہتی،