کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 485
دوسرے اورتیسرے مذہب کے مطابق ایسی خبر واحد جومحتف بالقرائن ہو وہ علم قطعی ویقینی کافائدہ دیتی ہے۔ متاخر حنفی محدث انور شاہ کاشمیر ی رحمہ اللہ بھی اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ خبر واحد محتف بالقرائن علم قطعی کافائدہ دیتی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں : ’’حاصلہ أنہ یفید القطع إذا احتف بالقرائن کخبر الصحیحین علی الصحیح‘‘ [فیض الباري:۴/۵۰۶] ’’ماحاصل یہ ہے کہ ایسی خبر واحد جو محتف بالقرائن ہے وہ علم قطعی کا فائدہ دیتی ہے جیساکہ صحیح قول کے مطابق صحیحین کی خبرہوتی ہے۔‘‘ مذکورہ بالاتصریح سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ چند سطحی نظر فقہاء کے بالمقابل جلیل القدر فقہاء ومحدثین نے خبر واحدمحتف بالقرائن کی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو استدلال میں وہ مقام دیا ہے جو متواتر کو دیا جاتا ہے یعنی اس کو تواتر کی قبیل سے شمار کیا ہے۔ تواتر کے مفہوم میں صحیح مؤقف یہ بات ذہن نشین رہے کہ تواتر کے مفہوم کو سمجھنے سے پہلے تدوین واِصطلاح کا معنی ومفہوم سمجھنا ازحد ضروری ہے، کیونکہ اس کا مفہوم تواتر کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ تدوین کے معنی درج کرنے ،قلمبند کرنے اورترتیب دینے کے ہیں یعنی بکھری ہوئی چیزوں کو ایک دیوان میں جمع کردینے کا نام تدوین ہے۔دیوان فارسی لفظ سے معرب بنایا گیا ہے جس کا معنی کاپی اور دفتر کے ہیں ۔ مختلف صحف کو ایک کتاب میں جمع کرنا بھی تدوین سے ہے۔ اسی طرح تدوین،تصنیف وتالیف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عبد الکریم زیدان رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ’’اب تک دستور یہی رہا ہے کہ کوئی چیزپہلے وجود میں آتی ہے بعد میں مدوّن ہوتی ہے۔ تدوین اس کے وجود کو بتلاتی ہے ،خود اس کو وجود نہیں بخشتی ۔جیسے علم نحو اورمنطق میں ہوا ہے۔ عرب اپنے کلام میں فاعل کو رفع اور مفعول کو نصب دیتے تھے اورنحو کی اسی قسم کے دوسرے قاعدے علم نحو کی باقاعدہ تدوین سے پہلے جاری وساری تھے اسی طرح منطق کی تدوین اوراس کے قاعدوں کی باقاعدہ ترتیب سے پہلے بھی عقلاء آپس میں مباحثے کرتے تھے اوربدیہیات سے استدلال کرتے تھے۔‘‘ [الوجیز فی أصول الفقہ:۱/۳۷] لفظ اصطلاح کا مادہ ’صلح‘ ہے یعنی اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ اہل علم یا اہل فن کی اس بات پر صلح ہوگئی ہے کہ آئندہ جب وہ یہ لفظ استعمال کریں گے تو اس لفظ سے ان کی مراد کوئی مخصوص تصور ہوگا۔مثلاً علماء نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ جب وہ ’کتاب اللہ‘ بولیں گے تواس سے مراد ان کے نزدیک قرآن مجید ہوگا۔ اِصطلاح کو علامتی نام یعنیCodifieationبھی کہا جاتا ہے یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ تدوین مٹتے یا ناپید ہوتے ہوئے تصورات کو محفو ظ کرنے اور دوبارہ اُجاگر کرنے کی غرض سے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرونِ اَولی میں تدوین کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔جتنی بعد کے زمانوں میں پیش آئی۔ جیساکہ پیچھے گذر چکا ہے کہ اصطلاحات پہلے سے موجود تصورات کو علامتی نام دے کر(بذریعہ کتابت) محفوظ کرنے کا نام ہے۔ چنانچہ اہل فن نے اس تصور اورمنہج کو جوکہ قرونِ اولی اورسلف اول میں تحقیقِ خبر کے حوالے سے ان