کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 48
یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے جومستند نسخے لکھوا کر مملکت کے مختلف مراکز میں رکھوائے تھے ان کے ساتھ ایک ایک ماہر قراءت کو بھی مقرر کیاتھا تاکہ وہ ان نسخوں کوٹھیک طریقے سے پڑھنا لوگوں کو سکھائے۔ مدینہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس خدمت پر مقرر تھے۔ مکہ میں حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر اسی کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔ شام میں مغیرہ بن شہاب رضی اللہ عنہ ، کوفہ میں ابوعبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ اور بصرہ میں عامر بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ اس منصب پر مامور کئے گئے تھے۔ ان کے علاوہ جہاں جو صحابی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست یا آپ کے بعد قراء صحابہ سے قرآن کی پوری قراءت سیکھے ہوئے تھے، ان کی طرف ہزارہا آدمی اس مقصد کے لیے رجوع کرتے تھے کہ قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب لفظ بلفظ ان سے سیکھیں ۔ ان عام متعلمین قرآن کے علاوہ تابعین و تبع تابعین کے عہد میں ایک گروہ ایسے بزرگوں کابھی پیدا ہوگیا جنہوں نے خصوصیت کے ساتھ قراءت قرآن میں اختصاص پیدا کیا۔ یہ لوگ ایک ایک لفظ کے تلفظ، طریق ادا اور اعراب کومعلوم کرنے کے لیے سفر کرکے ایسے اَساتذہ کے پاس پہنچے جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر نسبت تلمذ رکھتے تھے اور ہر ہر لفظ کی قراءت کے متعلق یہ نوٹ کیا کہ اسے انہوں نے کس سے سیکھا ہے اور اس کے استاد نے کس سے سیکھا تھا۔اسی مرحلے میں یہ بات تحقیق ہوئی کہ مختلف صحابیوں رضی اللہ عنہم اور ان کے شاگردوں کی قراءت میں کہاں کہاں اور کیا اختلافات ہیں ۔ ان میں سے کون سے اختلافات شاذ ہیں ، کون سے مشہور ہیں ، کون سے متواتر ہیں1اور ہر ایک کی سند کیا ہے۔ پہلی صدی کے دورِ آخر سے لے کردوسری صدی تک اس طرح کے ماہرین قراءت کا ایک گروہ کثیر دنیائے اسلام میں موجود تھا۔ مگر ان میں خاص طور پر جن لوگوں کا کمال علم تمام اُمت میں تسلیم کیا گیا وہ حسب ذیل سات اَصحاب ہیں جوقراء سبعہ کے نام سے مشہور ہیں : ۱۔ نافع بن عبدالرحمن رحمہ اللہ متوفی ۱۶۹ھ یہ اپنے وقت میں مدینہ کے رئیس القراء مانے جاتے تھے ان کا سب سے زیادہ معتبر سلسلہ تلمذیہ تھا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پورا قرآن پڑھا۔ انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ۲۔ عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ یہ مکہ کے امام قراءت تھے۔ ۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۰ ھ میں وفات پائی۔ ان کے خاص استاد عبداللہ بن سائب مخزومی رضی اللہ عنہ تھے جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے سرکاری نسخے کے ساتھ تعلیم دینے کے لیے مکہ بھیجا تھا اور عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ وہ بزرگ تھے جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پورا قرآن پڑھا تھا۔ ۳۔ ابوعمرو بن العلاء البصری رحمہ اللہ ۶۸ھ میں پیداہوئے اور ۱۵۵ ھ میں وفات پائی۔حرمین اور کوفہ و بصرہ کے کثیر التعداد ائمہ قراءت سے علم حاصل کیا۔ ان کے سب سے زیادہ معتبر سلسلہ تلمذ دو تھے۔ایک مجاہد رحمہ اللہ اور سعید بن [1] شاذ سے مراد کسی لفظ کی وہ قراء ت ہے جو کسی ایک ہی ذریعہ سے معلوم ہوئی ہو۔ مشہور سے مراد وہ قراء ت جس کی روایت کرنے والے متعدد اصحاب ہوں اورمتواتر سے مراد وہ قراء ت جو کثیر التعداد اصحاب نے کثیرالتعداد اصحاب سے سنی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے سننے والے کثیرالتعداد ہوں۔