کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 475
صحیح قاعدہ: اسم ذات کی خبر لانا مطلقاً جائز ہے۔ خبر کااسم ذات ہونا اکثر اور اسم معنی ہونا قلیل ہے۔ قرآن مجید سے دلیل: ﴿ نَحْنُ أعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖ إِذْ یَسْتَمِعُوْنَ إِلَیْکَ وَإِذْ ھُمْ نَجْویٰ ﴾ [الاسراء:۴۷] اسم ذات(ہُمْ) کی خبر اسم معنی(نجویٰ) کے ساتھ آئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں مثلاً ﴿ أوْ یُصْبِحَ مَاؤُھَا غَوْرًا ﴾ [الکہف: ۴۱] ۳۳۔ نحوی قاعدہ: وصل کی حالت میں دو ساکنوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ ﴿فَمَا اسْطَاعُوْا﴾ [الکہف: ۹۷] امام حمزہ رحمہ اللہ کی قراءت میں طاء مشدد کے ساتھ پڑھا گیا ہے: ﴿فَمَا اسْطَّاعُوْا﴾ صحیح قاعدہ: آیت کریمہ ﴿ فَمَا اسْطَاعُوْا﴾ میں وصل کی حالت میں دو ساکن جمع کرنے جائز ہیں ۔ قرآن مجید سے دلیل:﴿فَمَا اسْطَاعُوْا﴾ امام حمزہ رحمہ اللہ نے طاء مشدد کے ساتھ پڑھا ہے جو کہ متواتر قراءت ہے۔ ۳۴۔ نحوی قاعدہ: الوعد کو(فَاعَلَ) کے وزن پر لانا جائز نہیں ۔ الف کے بغیر(وَعَدَ) کہا جائے گا۔ صحیح قاعدہ: الوَعْد کو الف کے ساتھ(وَاعَدَ) اور الف کے بغیر(وَعَدَ) دونوں طرح لانا جائز ہے۔ قرآن مجید سے دلیل : ﴿ وَاِذْ وَاعَدْنَا مُوْسیٰ ﴾ [البقرۃ:۵۱] قراء سبعہ میں ابوعمرو رحمہ اللہ کے علاوہ باقی چھ قراء نے(وَاعَدَ) الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ۳۵۔ نحوی قاعدہ: ﴿ فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَائُ ﴾ میں راء کا لام میں ادغام جائزنہیں ہے۔ صحیح قاعدہ: آیت کریمہ ﴿ فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَآئُ ﴾ وغیرہ کلمات میں راء کا لام میں ادغام جائز ہے۔ قرآن مجید سے دلیل: ﴿ فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَن یَّشَائُ ﴾ [البقرۃ:۲۸۴] امام ابوعمرو رحمہ اللہ نے راء کے لام میں ادغام کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ متواتر قراءت ہے۔[کتاب السبعۃ، ص۱۹۵] ۳۶۔ نحوی قاعدہ:(من راق) میں ادغام کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ نون کے اظہار کے ساتھ پڑھنا عیب ہے۔ صحیح قاعدہ: جس طرح ادغام جائز ہے اسی طرح نون میں اظہار بھی جائز ہے۔ قرآن مجید سے دلیل: ﴿وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ﴾[القیامۃ:۲۷] امام عاصم نے نون کے اظہار(مع سکتہ) کے ساتھ پڑھا ہے جو کہ متواتر قراءت ہے۔ ۳۷۔ نحوی قاعدہ: ارشاد باری تعالیٰ ﴿لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ﴾ میں کلمہ(بَیْن) پر نصب پڑھنا جائز نہیں ہے۔ رفع پڑھا جائے گا۔ صحیح قاعدہ: کلمہ(بَیْن) میں رفع کی طرح نصب بھی جائز ہے۔ قرآن مجید سے دلیل: ﴿ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ﴾ [الأنعام: ۹۴] قراء میں سے امام نافع، کسائی اور حفص عن عاصم رحمہم اللہ نے(بَیْنَ) نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ۳۸۔ نحوی قاعدہ:ارشاد باری تعالیٰ ﴿ نَخْسِفْ بِھِم﴾ میں فاء کا باء میں ادغام جائز نہیں ہے۔ اصل وَجہ اظہار ہے۔ صحیح قاعدہ: ﴿ نَخْسِفْ بِھِمْ ﴾ میں اظہار کی طرح ادغام بھی جائز ہے۔ قرآن مجید سے دلیل: ﴿إنْ نَشَأ نَخْسِفْ بِھِمُ الْأرْضَ﴾ [السّبا:۹] امام کسائی رحمہ اللہ نے فاء میں باء کے ادغام