کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 462
ان میں واضح یا مخفی طور پر اعتراض کیا۔ تفصیل حسب ذیل ہے: صریح مخالفت کی مثال کلمہ(آئمۃ) میں دونوں ہمزوں کو تحقیق کے ساتھ پڑھنا ہے۔ اِرشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَقَاتِلُوْا أئِمَّۃَ الْکُفْرِ إنَّھُمْ لَا أیْمٰنَ لَھُمْ﴾ [سورۃ التوبہ:۱۲) قراءات سبعہ میں دونوں ہمزوں کو تحقیق کے ساتھ پڑھا گیا ہے بلکہ متعدد متواتر قراءات میں اسی طرح ہے۔ اس کے باوجود نحویوں نے اسے لحن قرار دیا۔ [الخصائص لابن جنی:۳/۱۴۳] انہوں نے دلیل یہ پیش کی ہے کہ یہ قیاس کے مطابق نہیں ہے، حالانکہ وہ یہ بات بھول گئے کہ متواتر صحیح سماع ہرقسم کے قیاس سے بالاتر ہے، کیونکہ لغت قیاس سے پہلے صحیح سماع سے ہی ثابت ہوتی تھی۔ کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے: مقیاس الترجیح ھوالسّماع الصحیح۔ ترجیح کا معیار صحیح سماع ہی ہے۔ نحویوں نے لغت کے اس اصول میں شک کیا، انہوں نے ہمزتین کو تحقیق کے ساتھ پڑھنے کی قراءت کو خطاقرار دیا اورکہا، قیاس کا تقاضا ہے کہ دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا جائے اور جب اسی طرح قیاس کے موافق ابدال والی قراءت آتی ہے تووہ اسے بھی وہ لحن قرار دیتے ہیں ۔[تفسیر الکشّاف للزّمخشری:۲/۱۴۲] حالانکہ یہ قیاس کے موافق ہے، صحیح سماع سے ثابت ہے، متعدد متواتر قراءات سے روایت کیا گیا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود وہ اسے لحن سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے: انہوں نے کہا: اگر دونوں ہمزہ عین کلمہ میں نہ ہوں تو انہیں تحقیق سے پڑھنا جائز نہیں ہے۔ ابن جنی رحمہ اللہ نے کہا: ’’فالھمزتان لا تلتقیان في کلمۃ واحدۃ إن لم تکونا عینین نحو سأل وسأر....لکن التقاؤھا فی کلمۃ واحدۃ غیر عینین لحن‘‘ [الخصائص لابن جنی:۳/۱۴۳] ’’دو ہمزہ ایک کلمہ میں جمع نہیں ہوتے اگر وہ سأل اور سأر کی طرح عین کلمہ میں نہ ہوں ۔ لیکن عین کلمہ کے علاوہ ایک کلمہ میں دو ہمزوں کا جمع ہونا لحن ہے۔‘‘ ہم ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں جو(أئمۃ) اور اس جیسی مثالوں میں ہمزہ کو تحقیق کے ساتھ پڑھنے کو لحن کہتے ہیں ، کیونکہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ قراءات سبعہ میں اسی طرح پڑھاگیا ہے۔ حفص نے عاصم سے، حمزہ، ابن عامر اور کسائی رحمہم اللہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے: السبعۃ لابن مجاہد، ص۳۱۲) دو ہمزوں کو تحقیق کے ساتھ پڑھنے کی حسب ذیل مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ ﴿وَجَعَلْنَامِنْھُمْ أئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِأمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا﴾ [السجدۃ :۲۴] ،﴿وَنَجْعَلَھُمْ أئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوَارِثِیْنَ﴾[القصص:۵]، ﴿وَجَعَلْنٰھُمْ أئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ إِلَی النَّارِ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ﴾ [القصص:۴۱]، ﴿وَجَعَلْنٰھُمْ أئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِأمْرِنَا وَأوْحَیْنَا إِلَیْھِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ﴾ [الأنبیاء:۷۳] قرآن مجید کی یہ واضح آیات ہم نے دیکھ لیں ۔یہ بات نامعقول ہے کہ ہم نصوص قرآنیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے نحو کے قیاس کو تسلیم کرلیں بلکہ معقول اور مقبول بات یہ ہے کہ ہم قواعد وضع کرتے وقت مکمل طور پر نص قرآنی پر اعتماد کریں ۔ دو ہمزوں کو تحقیق کے ساتھ پڑھنے کے بارے میں ہم نے نحاۃ کا مؤقف دیکھ لیا۔ اب ابدال کے بارے میں ان کا مؤقف دیکھیں ۔تحقیق الھمزتین کا مطلب ہے، دونوں ہمزوں کو سختی کے ساتھ الگ الگ ہمزہ کی آواز کے ساتھ پڑھنا اور ’آئمہ‘ کے کلمہ میں ابدال کے ساتھ پڑھا گیا تو انہوں نے اسے بھی لحن قرار دیا۔ زمخشری رحمہ اللہ کہتا