کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 436
بجائے’ابراھیم‘ کے نام سے پکارا جائے گا کیونکہ ان کی کثیرالتعداد نسل ہوگی اور اللہ تعالیٰ انہیں امام بنائے گا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا نام پہلے ’ابراھم‘ تھا ۔ اولاد کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کا نام ’ابراھیم‘ بالیاء رکھ دیا،کیونکہ الفاظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پردلالت کرتی ہے۔ یہاں ایک منفرد امر یہ بھی ہے کہ کلمہ [إِبْرَٰھٖمَ] بدون الیاء قرآن مجیدکی ابتدائی سورت صرف سورۃ البقرہ میں وارد ہے، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ابتدائی عمر میں ان کا نام تھا۔ إِنَّ وَلِیِّیَ اللّٰہ کلمہ [ وَلِیِّیَ ] منسوب إلی یاء المتکلم ، قرآن مجیدمیں درج ذیل دو مقامات پر وارد ہواہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ إن وَلِیِّے اللّٰہ الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَٰبَ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِینَ ﴾ [الاعراف:۱۹۶] ﴿ أنتَ وَلِیِّے فِی الدُّنْیَا وَالأخِرَِۃ﴾ [یوسف :۱۰۱] یہاں [ وَلِیِّ ے ] میں یاء کا حذف اللہ کے ساتھ قربِ شدید پردلالت کرتاہے۔ پہلی آیت مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری سیدنا یوسف علیہ السلام کی زبان پر جاری ہوئی ہے۔ النَّبِِیّٖنَ....الْأمِیّٖنَ....رَبَّٰنِیّٖنَ ان تمام کلمات میں دو یاؤں میں سے ایک یاء کا حذف، قوت ِ اتصال وارتباط پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً [النَّبِیّٖن] تمام انبیاء علیہم السلام آپس میں ایک ہیں اور سب مسلمان ہیں اوران کے درمیان گہراتعلق اور ربط ہے۔ ٭ضمیر متکلم کی طرف لوٹنے والے حرف ِ یاء کا حذف بعض کلمات کے آخر سے ضمیر متکلم یاء کو حذف کردیاجاتا ہے، جیسے: فَاتَّقُونِ، فَارْھَبُونِ، وَلَا تَکْفُرُونِ، اِذَا دَعَانِ، وَمَنِ اتَّبَعَنِ وغیرہ وغیرہ ان کلمات کے آخر میں یاء کاحذف سرعت پردلالت کرتاہے۔ یا بسا اوقات معاملے کی اہانت پر دلالت کرتا ہے۔ ٭ فعل کی یائے اصلی کا حذف اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ﴿یَوْمَ یَأتِ لَا تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِإذْنِہٖ ﴾ [ہود: ۱۰۵] یہاں اس آیت مبارکہ میں کلمہ [یأت] کے آخر سے فعل کی یائے اصلیہ محذوف ہے اور یہاں روز قیامت کاتذکرہ کیاجارہا ہے۔ اس کلمہ کے آخرسے یاء کا حذف معاملے کی سرعت اور فوریت پردلالت کرتا ہے کہ قیامت ایک دن اچانک واقع ہوگی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے نوجوان کاتذکرہ کیا ہے کہ جب مچھلی عجیب و غریب طریقے سے سمندر میں چلی گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلٰی آثَارِھِمَا قَصَصًا﴾ [الکہف:۶۴]