کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 419
اور نہی والی قراءت کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’ وفیہ وجھان: أحدھما أنّہ نہیٌ عن السؤال عمن عصیٰ وکفر من الأحیاء ؛ لأ نّہ قد یتغیر حالہ فینتقل عن الکفر إلی الإیمان وعن المعصیۃ إلی الطاعۃ،والثانی وھو الأظھر أنّہ نہیٌ عن السؤال عمّن ماتَ علٰی کفرہ ومعصیتہ‘‘ [ایضا] ’’اس میں دوصورتیں ہیں :ایک یہ کہ یہ حکم زندوں میں سے گناہ گاراورکفارکے بارے میں سوال سے روکنے کے لئے ہو،کیونکہ ان کاحال کفرسے ایمان کی طرف،اورگناہ سے اطاعت کی طرف تبدیل بھی ہوسکتاہے۔اوردوسراجوکہ زیادہ ظاہر ہے،کہ یہ حکم کفراورمعصیت پرمرنے والے لوگوں کے بارے میں سوال سے روکنے کے لئے ہو۔‘‘ نتیجہ قراء ات خلاصہ یہ ہوا کہ نفی والی قراءت سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اصحاب جہنم کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہیں ہوگا کہ وہ کیوں ایمان نہیں لائے ۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری صرف پہنچا دیناتھی اور نہی والی قرا ء ت سے یہ معنی سمجھ میں آتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع فرمادیا ہے ،جن کے بارے میں جہنم کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس معنی کی تائید ایک دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے : ﴿اِسْتَغْفِرْلَھُمْ أوْلَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ،ذَلِکَ بِأنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ ،وَاللّٰہُ لَا یَھْدِیْ الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴾[ التوبۃ :۸۰] ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کے لئے استغفار کریں یانہ کریں ،اگرآپ ان کے لئے سترمرتبہ بھی استغفارکریں گے ،توبھی اللہ تعالیٰ ان کومعاف نہیں فرمائے گا؛اس لئے کہ انہوں نے اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کی ہے،اوراللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں عطاء فرماتا۔‘‘ گویا اُس آیت میں دوقراء توں کی وجہ سے دو پہلوؤں سے سوال کرنے سے روکناثابت ہوگیا۔یعنی نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہنم والوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا،اورنہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں کوئی سوال کریں گے اس لئے کہ ان کی مغفرت کا کوئی اِمکان نہیں ہے اور اگر یہ سوال زندہ لوگوں کے بارے میں ہو توان کاحال تبدیل بھی ہوسکتاہے۔ نمبر۴۔ لِیَذَّکَّرُوْا/لِیَذْکُرُوْا ﴿وَلقَد صَرّفنا فی ھٰذا القُراٰن لیذّکّروا وما یَزیدُ ھُم اِلاّ نُـفورًا﴾ [ الاسراء :۴۱] ’’اورہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیاہے؛تاکہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں ، اور وہ نفرت میں بڑھتے ہی جاتے ہے۔‘‘ اختلاف قراء ات اس آیت میں کلمہ لیذکروا میں دو قراء تیں ہیں : نمبر ۱۔ لِیَذْکُرُوْا امام حمزۃ رحمہ اللہ ،کسائی رحمہ اللہ ، اورخلف رحمہ اللہ نمبر۲۔ لیذَّکَّرُوْا باقی سب قراء۔ [النشر :۲/۳۰۷]