کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 415
’’دوقراء توں کاتعارض دوآیتوں کے تعارض کی طرح ہے۔‘‘ اسی طرح تفسیر نیل المر ام میں علامہ قنوجی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’وقد تقرّر أنّ القراء تین بمنز لۃ الآ یتین فکما أنّہٗ یجب الجمع بین الآیتین المشتملۃ اِحداھما علی زیا دۃ العمل بتلک الزیا دۃ کذلک یجب الجمع بین القراء تین ‘‘ [نیل المرام ، ص ۵۲] ’’یہ بات ثابت شدہ ہے کہ دوقراء تیں دوآیتوں کی طرح ہیں ،توجس طرح ایسی دوآیتوں کے درمیان تطبیق کرناضروری ہے ،جن میں سے ایک آیت کسی زائدمعنی پرمشتمل ہو،اسی طرح دوقراء توں میں بھی جمع وتطبیق واجب ہے۔‘‘ فتح البا ری شرح بخاری میں ہے : ’’بین القراء تین تعارضٌ ظا ہرٌ ۔ والحُکمُ فیما ظاہرہٗ التعارض أنہ إن أمکن العمل بھما وجب،وإلا عُمِل با لقدر الممکن ،ولا یتأ تی الجمع بین الغسل والمسح فی عضو وا حد فی حالۃ واحدۃ؛ لأ نہ یؤدی إلی تکرار المسح لانّ الغسل یتضمن المسح۔والأمر المطلق لا یقتضی التکرار،فبقی أن یعمل بھما فی حالین توفیقا بین القراء تین وعملا بالقدر الممکن۔‘‘ [فتح الباري:۱/ ۳۵۶] ’’ دونو ں قرا ء توں میں ظاہری تعا رض ہے ، اور ظا ہر ی تعارض والی چیز کا حکم یہ ہے کہ اگر دونوں پر عمل ممکن ہو تو یہ ہی واجب ہو گا ، ورنہ بقدر امکا ن دونو ں پر عمل کیا جا ئے گا ۔ اور یہا ں ایک عضو میں ’ غسل ‘ اور ’ مسح‘ کو ایک ہی حا لت میں جمع نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے مسح کا تکرار لا زم آ تا ہے اس لئے کہ ’ غسل ‘ ، ’ مسح ‘ کو بھی شامل ہو تا ہے ، جبکہ امر مطلق تکرار کا تقا ضا نہیں کر تا ۔ لہٰذا یہ ہی صورت با قی رہی کہ دونوں قرا ء توں پر دو مختلف حالتوں میں عمل کیا جا ئے ، تاکہ دونوں قرا ء توں میں موا فقت ہو جا ئے اور بقدر امکان عمل بھی ہو جا ئے ‘‘۔ اس مضمون میں اولاً ایسی قراء تیں جمع کی گئی ہیں ،جن کا معنی ایک حدتک تو مختلف ہے،لیکن ان دونوں قراء توں کامصداق اورمحل ایک ہی ہے۔قرآن مجید میں اس طرح کی قراء تیں کثیر تعدادمیں پائی جاتی ہیں ۔چندمختلف مقامات کامطالعہ کیاگیاہے۔آخرمیں ایک شاذ قراءت کی مثال بھی ذکرکی گئی ہے،تاکہ ان قراء توں کے تفسیرپر اثرات کی وضاحت ہوسکے۔ نمبر ۱۔ فَیُضَعِّفہٗ/فیُضَاعِفہٗ ﴿مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قرضًا حسناً فیضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کثَیِرْۃً﴾ [البقرۃ:۲۴۵] اختلاف قراء ات اس آیت میں کلمہ فیضٰعفہٗ میں چار قراء تیں ہیں : نمبر ۱۔ فَیُضَعِّفُہٗ امام ابن کثیر رحمہ اللہ ،ابوجعفر رحمہ اللہ نمبر۲۔ فَیُضَعِّفَہٗ امام ابن عامر رحمہ اللہ ،امام یعقوب رحمہ اللہ نمبر۳۔ فیُضَاعِفَہٗ امام عاصم رحمہ اللہ نمبر۴۔ فیُضَاعِفُہٗ امام نافع رحمہ اللہ ،ابوعمروبصری رحمہ اللہ ،حمزہ رحمہ اللہ ،کسائی رحمہ اللہ [النشر:۲/۲۲۸،نیزمصحف القراءات العشر، سورۃالبقرۃ:۲۴۵]