کتاب: رُشدقرأت نمبر 2 - صفحہ 39
برصغیر میں مروج ہے کو ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک حرف پر بچایا ہوا قرآن سمجھنے لگے۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے ہم یہ حدیث ذکر کرتے ہیں تاکہ اس کاپس منظر سامنے آئے: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۂ فرقان پڑھتے سنا۔ وہ اس کو کئی حروف پر پڑھ رہے تھے جن کو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سکھلایاتھا۔ قریب تھاکہ میں نماز میں ہی اُنہیں جالیتا، میں نے صبر کیا حتیٰ کہ اُنہوں نے سلام پھیرا۔میں نے ان کے گلے میں چادر ڈالی اور پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے پڑھائی ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے۔ میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تو کسی اور طرح یہ سورت پڑھائی ہے۔ آخر میں انہیں کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یہ سورۂ فرقان کو کسی اور طرح ہی پڑھ رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہشام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے وہی قراءت پڑھی جوپہلے پڑھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھنے کا حکم دیا۔ میں نے بھی اسی طرح پڑھی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ بھی صحیح ہے اور یہ اسی طرح نازل ہوئی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دیکھو یہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے، ان میں سے جو حرف تم کو آسان لگے، وہ پڑھ لیا کرو۔‘‘[صحیح البخاري:۴۹۹۲] واضح رہے کہ حدیث :((أنزل القرآن علیٰ سبعۃ أحرف)) ۲۱ صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے اورمحدثین نے اس حدیث کو متواتر کا درجہ دیا ہے۔ تاہم لوگوں کااس کے معنی و مفہوم کے تعین میں اختلاف ہوا۔علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے الاتقان میں اس کے متعلق ۴۰ /اقوال ذکر کئے ہیں ، اسی طرح ابن حبان نے ۳۵۔ اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباري میں متعدد اقوال ذکر کئے ہیں ۔ ان میں سے بعض نے لغات ، بعض نے سات قراءات اور بعض نے کچھ اور لیکن محققین قراء نے اس سے سات وجوہ مراد لی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے چھ حروف کوختم کردیا اور ایک کوباقی رکھا اور وہ آج ہمارے پاس حفص کی قراءت کی صورت میں موجود ہے، سراسر لغو ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ جرأ ت کیونکر کرسکتے تھے۔؟ قرآن نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ ﴿ إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ﴾ [الحجر:۹] ’’قرآن مجید ہم نے اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔‘‘ کسی صحابی یا خلیفہ راشد کو یہ اختیارنہیں ہے کہ شریعت میں کوئی تبدیلی کرے، کجا یہ کہ وہ قرآن کریم میں سے کچھ حذف کرسکے۔ دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوگیا اور اس میں بعد میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرمحض الزام کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ یہ جلد حفظ ہوجاتا ہے، جبکہ باقی کتابوں میں بہت صعوبت ہوتی ہے اور ان کو حفظ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کو پہلے پہل جمع کرنے کا خیال بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حفاظ کرام کی شہادت کے بعد آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿بَلْ ھُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إلَّا الظَّالِمُوْنَ﴾ [العنکبوت:۴۹] ’’دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے اور ہماری آیات کاانکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں ۔‘‘ قرآن مجید جس شکل میں اور جن حروف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہواتھا، انہی حروف کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے محفوظ رکھا اور انہی حروف کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محفوظ رکھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہی صحیفوں سے نقل کیا جو